رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماو ننگ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چین کے نائب وزیر خارجہ ما زاؤکسو اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اس میٹنگ کے بعد اسی دن نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرے ایک اجلاس ہوگا، جس میں ایران کی جانب سے یورینیم کے ذخیرے میں توسیع کے حوالے سے بات کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے چین، روس اور ایران کا اہم اجلاس بیجنگ میں ہو گا، روس اور چین اپنے نائب وزرائے خارجہ کو بیجنگ بھیجیں گے۔ رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماو ننگ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چین کے نائب وزیر خارجہ ما زاؤکسو اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اس میٹنگ کے بعد اسی دن نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرے ایک اجلاس ہوگا، جس میں ایران کی جانب سے یورینیم کے ذخیرے میں توسیع کے حوالے سے بات کی جائے گی۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران، روس اور چین کا اعلی سطحی اجلاس رواں ہفتے کے دوران ہو گا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے معاونین کی سطح پر اجلاس اس ہفتے جمعہ کو بیجنگ میں منعقد ہوگا جس میں ایران کے جوہری معاملے اور پابندیوں کے خاتمے پر غور کیا جائے گا۔

بقائی کے مطابق یہ مذاکرات اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلسل سفارتی مشاورت کا حصہ ہیں۔ اجلاس میں تینوں ممالک کے باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور بین الاقوامی حالات اور برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے دائرہ کار میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران کو مذاکرات کی دعوت کے ساتھ دھمکی آمیز لہجے میں مزید پابندیوں اور کاروائی کا عندیہ دے رہے ہیں۔ ایران، چین اور روس کا یہ سہ فریقی اجلاس ایران کے جوہری پروگرام اور امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ چین اور روس، جو پہلے ہی ایران کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز پر ایران کی پوزیشن مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس اجلاس سے نہ صرف جوہری مسئلے پر ایران کے مؤقف کو تقویت ملے گی بلکہ مغربی دباؤ کا متبادل بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کی خارجہ کے ایران کے روس اور

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا