راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ آور دہشتگرد افغانستان میں اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہاکہ دہشتگرد کئی گروپوں میں تھے، دہشتگردوں نے مسافروں کو یرغمال بناکر رکھا،ایک گروپ نے بچوں اورعورتوں کو ٹرین کے اندر رکھا، یہ جگہ دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے،ٹرین سے باہر لائے گئے مسافروں کو زمین پر بٹھا لیاگیا تھا، دہشتگردوں نے مسافروں کو اتار کر ٹولیوں میں تقسیم کیا، دہشتگردوں کے درمیان خودکش بمبار بھی موجود تھے۔

قیدیوں کی رہائی کیلئے دیں عطیات؛ وہ بھی عید منائیں اپنے پیاروں کیساتھ، محکمہ داخلہ پنجاب کا خصوصی پیغام جاری

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ بھارتی میڈیا نے فیک ویڈیوز چلا کر بیانیہ بنانے کی کوشش کی،ٹرین واقعے سےپہلے دہشتگردوں نے ایف سی چیک پوسٹ پر حملہ کیا، دہشتگردوں کی سپورٹ میں ایک وار فیئر چلنا شروع ہوئی، جس کو بھارتی میڈیا لیڈ کر رہا تھا، اے آئی کی مد د سے تیار کی گئی فیک ویڈیوز بھارتی میڈیا نے چلائیں،دہشتگرد افغانستان میں اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے،کچھ یرغمالیوں کو موقع ملا تو وہ وہاں سے بھاگ نکلے ،سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت کا سہارا لیتے ہوئے جعلی ویڈیوز بنائی گئیں،بھارتی میڈیا جعلی ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا کرتا رہا، دہشتگردی کیلئے انتہائی دشوار گزار علاقے کا انتخاب کیا گیا،جعلی ویڈیوز دکھا کر پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

جعفرایکسپریس پر حملہ لیکن اس سے پہلے دہشتگردوں نے کس مقام کو نشانہ بنایا تھا؟ پاک فوج کے ترجمان نے اعلان کردیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: دہشتگردوں نے بھارتی میڈیا میں تھے

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی