روس امن معاہدے میں رکاوٹ، مذاکرات کے بجائے دبا ڈالنے کی ضرورت ہے، یوکرینی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 15 March, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امن کا راستہ غیر مشروط طور پر شروع ہونا چاہیے، تاہم روس امن معاہدے میں رکاوٹ بن رہا ہے، لہذا روس پر مذاکرات کے بجائے دبا ڈالنے کی ضرورت ہے کیوں کہ وہ ایک ہی زبان سمجھتا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جاری بیان میں یہ بات بتائی۔

پوسٹ کے مطابق یوکرین کے اتحادی یورپی ممالک کے سربراہان کے ساتھ ورچوئل اجلاس سے خطاب میں نے کہا کہ امن کا راستہ غیر مشروط طور پر شروع ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر روس ایسا نہیں چاہتا تو اس وقت تک سخت دبا ڈالا جانا چاہیے جب تک کہ وہ ایسا نہ کرے کیوں کہ ماسکو ایک ہی زبان سمجھتا ہے۔

اپنی پوسٹ میں یوکرینی صدر نے کہا کہ منگل کے روز سے جنگ بندی سے متعلق امریکا کی تجویز زیر بحث ہے، جس میں 30 روز کے لیے فضائی، سمندری اور زمینی سطح پر مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی شامل ہے جب کہ اس عرصے کے دوران حقیقی امن کے لیے تمام پہلوں کا جائزہ لینا ممکن ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران ہم نے اس حوالے سے بات کی کہ کون چیزوں کو سست کرے گا اور امن میں تاخیر کرے گا، اب ہم یہ واضح طور پر دیکھ رہے ہیں، یہ جنگ بندی پہلے ہوسکتی تھی لیکن روس اسے روکنے کے لیے ہرممکن کوشش کررہا ہے۔

یوکرین کے صدر نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ولادی میر پیوٹن زمینی صورتحال سے متعلق غلط بیانی کررہا ہے، خاص طور پر کرسک کے علاقے میں جہاں یوکرینی افواج اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ روسی صدر جنگ بندی سے متعلق بھی جھوٹ بول رہے ہیں کہ یہ عمل بہت پیچیدہ ہے، درحقیقت اس کے ذریعے سب کچھ کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور اس بارے میں ہم امریکا سے بات کرچکے ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ جدہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد پیوٹن اس جنگ کو تقریبا ایک ہفتے تک آگے بڑھا چکا ہے اور وہ مزید اسے آگے لے جائے گا۔ولادی میر زیلنسکی نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ 3 سال سے روس کی اس جنگ میں صرف تباہی دیکھی گئی اور اب اس کو روکنے کے لیے صرف بات چیت نہیں بلکہ دبا کی ضرورت ہے، امریکا جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے لیے روس پر دبا ڈالے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ دنیا جان لے کہ روس امن قائم کرنا نہیں چاہتا، روس امن معاہدے میں رکاوٹ بن رہا ہے، روس پر دبا ڈالا جائے جس میں روس کے خلاف سخت پابندیاں بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی سلامتی کے لیے ہمیں تحریری ضمانت چاہیے، ہمیں سیکورٹی گارنٹی پر ایک واضح پوزیشن درکار ہے جب کہ میں یورپی یونین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس وقت ہماری مدد کررہے ہیں۔یورپی رہنماں کے ساتھ ورچوئل اجلاس میں خطاب کے دوران یوکرینی صدر نے کہا کہ میں آپ سے یہ بھی کہتا ہوں کہ آپ یوکرین اور مستقبل میں اپنے ممالک میں فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے بارے میں نہ بھولیں کیوں کہ ہم سب کو تحفظ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پیوٹن روس کی سرزمین پر کچھ غیر ملکی دستے لانا چاہتے ہیں تو یہ ان کا کام ہے لیکن یوکرین اور یورپ کی سلامتی سے متعلق ہمیں فیصلے کرنا ہوں گے اور ہمیں نہ صرف یورپ اور جی سیون ممالک بلکہ دنیا بھر کے دیگر تمام ممالک کو امن کی خاطر متحد کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس جنگ کو منصفانہ طریقے سے ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے سفارت کاری کو زیادہ سے زیادہ متحرک کیا ہے تاہم دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ روس ہی امن کی راہ میں واحد رکاوٹ ہے۔ولادی میر زیلنسکی نے یورپی رہنماں سے درخواست کی کہ روس کو امن کی خاطر تمام ضروری اقدامات اٹھانے پر مجبور کرکے امن قائم کیا جائے اور اس حوالے سے امریکی صدر سے بھی بات کریں اور امن کا راستہ غیر مشروط طور پر شروع ہونا چاہیے۔ اگر روس ایسا نہیں چاہتا تو اس وقت تک سخت دبا ڈالا جانا چاہیے۔

دوسری جانب، برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ روس یوکرین امن مذاکرات کے لیے پیوٹن پر دبا ڈالا جائے گا اور مذاکرات کے لیے راضی کیا جائے گا جب کہ یوکرین کا ہر طرح سے بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ کوئی حکمت عملی بنائی جائے، یوکرین امن چاہتا ہے لیکن روس تاخیر کررہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: روس امن معاہدے میں رکاوٹ ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی صدر کی ضرورت ہے زیلنسکی نے مذاکرات کے یوکرین کے نے کہا کہ دبا ڈالا جائے گا کہ روس کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل