انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کی وجہ سے پاکستان کی دنیا میں بدنامی ہوئی: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 16th, March 2025 GMT
انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کی وجہ سے پاکستان کی دنیا میں بدنامی ہوئی: وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 16 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ کے سرغنہ کی گرفتاری پر ایف آئی اے اور انٹیلی جنس بیورو کے افسران و اہلکاروں کی پذیرائی اور کارکردگی کو سراہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کئی بے گناہ لوگوں کی جانیں ضائع ہونے کے ذمے دار ہیں، مکروہ عمل کے باعث کئی لوگ ڈوبے اور اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے، انسانی جانوں پر اس سے بڑا ظلم نہیں ہوسکتا۔
شہباز شریف نے کہا کہ یہاں مدعو کرنے کا مقصد آپ کی کارکردگی کو سراہنا ہے، ججا گینگ کو گرفتار کرنا لائق تحسین ہے، انسانی اسمگلنگ کے گھناؤنے جرم کے مرتکب عناصر کی سرکوبی حکومت کی اولین ترجیح ہے، کالے دھندے میں ملوث افراد نے پاکستان کے تشخص کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کی وجہ سے پاکستان کی دنیا میں بدنامی ہوئی، انسانی اسمگلنگ کا کالا دھندا مکمل طور پر بند کرانے کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گھناؤنے دھندے میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی کرنے والے افسران کو قوم کی طرف سے شاباش، متعلقہ ادارے انسانی اسمگلنگ کے گھناؤنے جرم کی بیخ کنی کیلئے دن رات محنت کریں، پاکستان کا نام عالمی سطح پر بلند کرنے میں ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کیخلاف کارروائی کرنے والے افسران نے ملک کو عزت بخشی، متعلقہ ادارے ایسے ہی اپنی اعلیٰ کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھیں۔
وزیراعظم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کو 10،10 لاکھ روپے انعام اور شیلڈز بھی دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث میں ملوث عناصر کی
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔