پی ٹی آئی ختم کرنے کے چکر میں ملک کو داو پر لگا دیا گیا ، وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور
اشاعت کی تاریخ: 16th, March 2025 GMT
پی ٹی آئی ختم کرنے کے چکر میں ملک کو داو پر لگا دیا گیا ، وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور WhatsAppFacebookTwitter 0 16 March, 2025 سب نیوز
پشاور(سب نیوز)وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو شہریت دی جائے اور انہیں زبردستی بے دخل نہ کیا جائے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیراعلی خیبرپختونخوا نے کہا کہ افغان مہاجرین ہمارے پڑوسی ہیں اور انہیں ہم نے سینے سے لگایا تاہم پالیسی کے حوالے سے ہم ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کو بے عزت کر کے واپس نہیں بھیجنا چاہیے اور انہیں زبردستی ڈی پورٹ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ افغان مہاجرین کو پاکستان کی شہریت کیوں نہیں دی جاتی۔
وزیراعلی نے کہا کہ جو افغان ہمارے صوبہ میں ہین ان کونکالنے کا مخالف ہوں۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے وزارت خارجہ اور داخلہ کو ٹی او آرز بھیجے ہیں مگر ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا جبکہ میری مذاکرات والی بات پر تنقید کی گئی اور اسے مذاق میں لیا گیا۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ مولانا حامد الحق کے قتل کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ مفتی منیرشاکر کی زمہ داری ایک گروپ نے قبول کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے حالات عمران خان حکومت میں خراب نہیں تھے لیکن ایک پارٹی کو ختم کرنے کے چکرمیں سب دا پرلگا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے حالات خراب ہوئے ہیں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات مرکزی حکومت اوراداروں کی نااہلی سے خراب ہوئے ہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ آرمی چیف سے امن وامان کی صورت حال پر بات کرچکا ہوں اورکوئی ساتھ نہیں دیتا، یہ لوگ اب بھی پی ٹی آئی کوتوڑنے میں لگے ہوئے ہیں، فارم 45 والوں کو اقتدارمیں لانا جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے لیکن کوئی پرواہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈرامے کی بات کرنے پربھی ایف آئی آر کردی گئی ہے، حالات پرپردہ نہیں ڈالنا چاہیے ورنہ 71 والے حالات بن سکتے ہیں، ان حالات میں ہم کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ طورخم بارڈر کی بندش سے ماہانہ ایک ارب کانقصان ہمیں ہورہا ہے تجارت تباہ ہورہی ہے۔ جوپالیسیاں ناکام ہوگئی ہیں انھیں چھوڑکر گے برھنا چاہیے۔
وزیراعلی نے کہا کہ 20 لاکھ افراد گزشتہ ایک سال مین ملک سے باہر جاچکے ہیں، تیمورسلیم جھگڑا اورکامران بنگش پر عمران سے بات ہوئی کمیٹی کی رپورٹ آنے پر فیصلہ ہوگا۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کاوقت نہیں دیاجاتا، ایک سالہ کارکردگی کی بنیاد پر کابینہ میں ردوبدل ہوگا، رپورٹ میرے پاس آچکی یے عمران خن کودوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کاجوبھی پرویز خٹک سے ملاقات کرے گا تو وہ پارٹی میں نہیں رہے گا، میں نے محمودخان سے پارٹی سے جانے سے پہلے بات کی تھی اورانہیں منع بھی کیا تھا مگر انہوں نے بات نہیں مانی، پرویز خٹک نے بے شرمی کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے وزیراعلی نے کہا کہ افغان مہاجرین پی ٹی آئی انہوں نے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔