اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 مارچ 2025ء) ناسا کے خلاباز بیری "بچ" ولمور اور بھارتی نژاد سنیتا ولیمز نو ماہ سے بھی زائد عرصے سے خلا میں پھنسے ہوئے تھے، جو منگل کے روز زمین پر واپس پہنچ گئے۔

منگل کے روز شام کے وقت اسپیس ایکس کیپسول فلوریڈا کے ساحل پر آہستہ آہستہ نمودار ہوا اور پھر اترنے کے لیے پیراشوٹ فضا میں تعینات کیے گئے۔

خلائی اسٹیشن پر پھنسے خلابازوں کی واپسی کی راہ ہموار

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے زمین تک 17 گھنٹے کے سفر کے بعد خلائی جہاز خلیج میکسیکو کی لہروں سے ٹکرایا، تو گراؤنڈ پر موجود ٹیمیں خوشی سے جھوم اٹھیں۔

اس عملے میں امریکہ کے خلاباز نک ہیگ اور روس سے تعلق رکھنے والے الیگزینڈر گوربونوف بھی شامل ہیں، جنہیں اترنے کے بعد صحت کی جانچ کے لیے ہیوسٹن میں ناسا کے خلائی مرکز لے جایا جائے گا۔

(جاری ہے)

ناسا کے خلابازوں نے آخر کار خلائی اسٹیشن کو الوداع کہا

اس سے متعلق لائیو فوٹیج میں خلابازوں کو ہنستے، گلے لگاتے اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے روانہ ہونے سے پہلے اسٹیشن پر اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ تصویریں بناتے ہوئے دکھایا گیا۔

ماہرین فلکیات نے معلوم کائنات کا سب سے بڑا ڈھانچہ دریافت کر لیا

اس کے بعد انہیں اسپیس ایکس کے ایک کیپسول کے اندر بند کر دیا گیا۔

انہوں نے دوبارہ داخل ہونے والے سوٹ، بوٹ اور ہیلمٹ پہنے اور پھر دو گھنٹے تک آخری پریشر کے لیے کمیونیکیشن اور سیل کا ٹیسٹ کیا گیا۔

چار افراد پر مشتمل عملہ باضابطہ طور پر ناسا کے کریو 9 گردش خلاباز مشن کا ایک حصہ تھا۔

کیپسول کے اندر سے کمانڈر نک ہیگ نے کہا، "کریو-9 اب گھر جا رہا ہے۔"

ہیگ نے مزید کہا کہ "انسانیت کے فائدے" کے لیے بین الاقوامی کوششوں کے حصے کے طور پر "اسٹیشن کو گھر کہنا ایک اعزاز کی بات ہے۔

"

کیا ناسا سورج کے قریب ترین پہنچنے کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے کو ہے؟

طویل مشن جو سیاسی تماشے میں بدل گیا

ناسا کے دو تجربہ کار خلابازوں اور امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ ٹیسٹ پائلٹس کو گزشتہ جون میں اسٹار لائنر کے پہلے عملے کے طور پر خلا میں بھیجا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر یہ مشن صرف چند دن پر ہی محیط تھا۔ تاہم اسٹار لائنر کے ایندھن سسٹم میں مسائل کی وجہ سے ان کی وطن واپسی متعدد بار التوا کا شکار ہوئی، جس کی وجہ سے ناسا نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اب اسپیس ایکس کے ایک کرافٹ کے ذریعے زمین پر واپس آئیں گے۔

چین چاند کے ’چُھپے ہوئے‘ حصے پر مشن بھیجے گا

اس کی وجہ سے خلا باز ولمور اور سنیتا ولیمز کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر معیاری چھ ماہ طویل قیام زیادہ دیر تک کھنچتا رہا اور ان دونوں کو نو ماہ سے زیادہ وہاں رکنا پڑا۔

مشن میں اس تاخیر کے سبب ناسا کی ہنگامی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ بوئنگ کے اسٹار لائنر خلائی جہاز کی ناکامیاں بھی نمایاں ہو گئیں۔

امریکی نجی کمپنی کا خلائی جہاز چاند پر پہنچ گیا

یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب ان خلابازوں کی جلد واپسی کا مطالبہ کیا تو یہ مشن سیاسی تماشے کا بھی شکار ہوا۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ سابق صدر جو بائیڈن نے سیاسی وجوہات کی بنا پر انہیں آئی ایس ایس پر چھوڑ رکھا ہے۔

ص ز/ ج ا (اے ایف پی، روئٹرز)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خلائی اسٹیشن بین الاقوامی کے خلاباز ناسا کے کے لیے کے بعد

پڑھیں:

گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟

گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔

کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا

اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔

گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔

یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔

پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی

ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گوگل گوگل پاسپورڈ

متعلقہ مضامین

  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی