بلاسفیمی گینگز یا توہینِ مذہب جھوٹے مقدمات سے متعلق عدالتی کاروائی کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
گزشتہ 2 روز سے اِسلام آباد ہائیکورٹ میں توہینِ مذہب سے متعلق الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیے جانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت براہِ راست نشریات کے ذریعے سے دکھائی جا رہی ہیں۔ اِسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان 101 درخواستوں کی سماعت کر رہے ہیں جن میں درخواست گزاروں کا دعوٰی ہے کہ اُن پر توہینِ مذہب کے جھوٹے الزامات لگا کر اُن کو پھنسایا گیا۔
اس مقدمے کا ایک پہلو اسپیشل برانچ کی ایک رپورٹ ہے جس میں ایک سورس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ توہینِ مذہب کا کاروبار کرنے والا ایک پورا گروہ موجود ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے سے لوگوں کو توہینِ مذہب کے الزامات میں پھنسا کر اُن سے پیسے وصول کرتا ہے۔
آیا یہ الزام درست ہے یا غلط اِس کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے اور اِسی کے لیے درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت سے یہ استدعا کی جا رہی ہے کہ الزامات کی صحت کا تعین کرنے کے لیے عدالتی کمیشن بنایا جائے۔
مزید پڑھیں: تربت: توہین مذہب کے الزام میں نجی اسکول کا استاد قتل
بلاسفمی گینگز یا بلاسفیمی بزنس گروپ کی اصطلاح کہاں سے آئی؟امریکا میں مقیم ایک پاکستانی صحافی کی جانب سے گزشتہ برس یہ سٹوری بریک کی گئی کہ پاکستان میں بلاسفیمی گینگ یا بلاسفیمی بزنس گروپ کام کر رہا ہے جو مختلف عام شہریوں کے خلاف توہینِ مذہب مقدمات کا اندراج کرتا ہے۔ عموماً یہ مڈل کلاس یا غریب گھرانے کے افراد ہوتے ہیں اور بہت سارے مقدمات ہنی ٹریپنگ کے ذریعے سے بنائے گئے ہیں۔
جب یہ مقدمات بن جاتے ہیں تو پھر بلاسفیمی بزنس گروپ اِن لوگوں سے پیسے وصول کرتا ہے۔ اس مقدمے میں گزشتہ روز درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ اصل بات تو اسپیشل برانچ کی رپورٹ سے پتا چلی لیکن اِس کے باوجود بلاسفیمی بزنس گروپ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔
امریکا میں مقیم پاکستانی صحافی کی رپورٹ کے مطابق اب تک 400 کے قریب لوگوں کے خلاف توہین مذہب الزامات کے تحت مقدمات درج کئے جا چُکے ہیں۔
توہین مذہب اور ہنی ٹریپ؟راقم الحروف سے کچھ ایسے متاثرین نے رابطہ کیا جن کے مطابق اُن کے بیٹے کی فیس بک پر کسی لڑکی سے دوستی ہوئی، اُس لڑکی نے بعد ازاں لڑکے ساتھ واٹس ایپ پر بات چیت کرتے ہوئے اُسے توہینِ آمیز مواد بھیجا اور اُس کے بعد کسی بہانے سے واپس منگوا لیا۔ جونہی اُس لڑکے نے مواد واپس بھیجا۔ اُس پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: توہینِ مذہب کے قانون میں بہتری کی ضرورت
اِس مقدمے میں ایک درخواست گزار وکیل کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ اِس وقت 400 سے زائد لوگ توہینِ مذہب الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور زیادہ تر لوگوں کا تعلق اسلام آباد اور راولپنڈی سے ہے جن کو ہنی ٹریپنگ کے ذریعے سے مقدمات میں ملوث کیا گیا۔ زیادہ تر ملزمان 20 سے 30 سال عمر کے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایمان مزاری سمیت درخواست گزار وکلا نے بتایا کہ توہینِ مذہب کے مقدمات کا اندراج کرنے والے منظم گینگ کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ 25 سے 30 افراد ہیں جنہوں نے پورے مُلک سے 450/400 لوگوں کو توہین مذہب کے الزامات میں پھنسا رکھا ہے۔
اب مقدمے کا اندراج کرنے والے لوگ اور وکلا متاثرین سے پیسے مانگتے ہیں۔ پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین کے تحت لوگوں کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ مقدمات اپنی حساس نوعیت کی وجہ سے برسوں التوا کا شکار بھی رہتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ بلاسفمی گینگ بلاسفیمی بزنس توہین مذہب جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان ہنی ٹریپنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ بلاسفمی گینگ بلاسفیمی بزنس توہین مذہب ہنی ٹریپنگ ا باد ہائیکورٹ کے ذریعے سے توہین مذہب مذہب کے کے لیے
پڑھیں:
ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
اسلام آباد:ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا اہم اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ادویات کی قیمتوں اور ان کی دستیابی سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، چیف ایگزیکٹو آفیسرڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور وزارتِ خزانہ و تجارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ڈریپ نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق مختلف معاملات اور ضروری ادویات کی مارکیٹ میں دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور مختلف سفارشات پیش کی گئیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق تمام فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ ایک جانب مریضوں کو ضروری ادویات مناسب قیمت پر دستیاب رہیں اور دوسری جانب ادویہ ساز صنعت کی پائیدار پیداوار اور فراہمی بھی متاثر نہ ہو۔
محمد اورنگزیب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں اور ان کی وجوہات سے عوام کو بروقت اور واضح انداز میں آگاہ کیا جائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ فیصلے کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی کی سفارشات اور ڈریپ کی تجاویز کی روشنی میں آئندہ دنوں میں ادویات کی قیمتوں سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں، تاہم حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی مفاد اور مریضوں کی سہولت کو ہر صورت ترجیح دی جائے گی۔