استنبول میں میئر کی قید کے خلاف اردوان کے مخالفین کی بڑی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
ISTANBUL:
ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان کے مخالف رہنما اور استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کی قید کے خلاف حزب مخالف کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور شہر میں بڑی ریلی نکالی۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ریلی میں اکرم اوغلو کا ایک خط بھی پڑھ کر سنایا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مجھے کوئی خوف نہیں ہے کیونکہ آپ لوگ میرے ساتھ کھڑے ہیں اور قوم متحد ہے۔
میئر استنبول نے خط میں لکھا کہ قوم جارح پسندوں کے خلاف متحد ہے، وہ مجھے جیل میں رکھ سکتے ہیں مجھے جتنا چاہیں تنگ کرسکتے ہیں لیکن قوم نے یہ سب دیکھ لیا ہے جو ان سب حربوں کو ناکام بنا دے گی۔
استنبول میں ہزاروں ترک شہریوں نے ملک بھر میں احتجاج کیا اور یہ سلسلہ گزشتہ ہفتے سے جاری ہے جب میئر امام اوغلو کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مظاہرین پرامن تھے لیکن اس کے باوجود دو ہزار شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
صدر طیب اردوان کی مرکزی مخالف جماعت ری پبلکن پیپلزپارٹی (سی ایچ پی) اور دیگر حزب اختلاف جماعتیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور چند مغربی طاقتوں نے بھی کہا ہے کہ امام اوغلو کے خلاف کیس انہیں سیاسی طور پر ختم کرنے کی کوشش ہے کیونکہ وہ طیب اردوان کے لیے انتخابات میں سب سے بڑا خطرہ نظر آ رہے ہیں۔
دوسری جانب اردوان کی حکومت نے مذکورہ تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور عدالتیں آزاد ہیں لہٰذا قانون کی بالادستی قائم رہے گی۔
ہزاروں افراد کی ریلی میں مظاہرین کی ترک پرچم اٹھایا ہوا تھا اور بینرز میں امام اوغلو کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ پولیس نے ریلی کے اطراف میں سخت سیکیورٹی فراہم کر رہی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امام اوغلو کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔