WE News:
2026-07-24@00:53:26 GMT

ایسٹ ویسٹ اکنامک کاریڈور

اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT

امریکی تھنک ٹینک کی پاکستان انڈیا ایران پر مشتمل ایسٹ ویسٹ کاریڈور پر رپورٹ

ایسٹ ویسٹ کاریڈور سنٹرل ایشیا کے پانچ ملکوں قازقستان ، کریگیزستان ، تاجکستان ، ترکمانستان اور ازبکستان کو افغانستان ایران پاکستان اور انڈیا سے ملانے کا منصوبہ ہے ۔ اس ریجن کا لینڈ سائز 10 ملین (ایک کروڑ ) سکوئر کلومیٹر ہے ۔ یہاں 1 ارب 80 کروڑ لوگ رہتے ہیں ۔ اس ریجن میں انڈیا کا جی ڈی پی سائز 4100 ارب ڈالر ہے ۔ تاجکستان 12 ، کریگزستان 13 اور افغانستان 20 جی ڈی پی سائز کے ساتھ چھوٹے پارٹنر ہیں ۔

کاریڈور کی تعمیر سے سنٹرل ایشیا کے لینڈ لاک ملکوں کو ایران اور پاکستان کے ساحلوں تک رسائی حاصل ہو گی ۔ انڈیا کو پاکستان کے راستے ریل اور روڈ افغاستان کے علاوہ ایران اور آگے سنٹرل ایشیا سے ملا دیں گے ۔

سنٹرل ایشیا کے بے پناہ معدنی وسائل ( آئل ، گیس اور منرل ) انڈیا کی مینوفیکچرنگ اور پاکستان کے ٹریڈ نیٹورک سے جڑ جائیں گے ۔ ایران میری ٹائم گیٹ وے کا کام کرے گا ۔

رینڈ کارپوریشن 1948 میں قائم ہوا ایک نان پرافٹ گلوبل پالیسی تھنک ٹینک ہے جو سانتا مونیکا کیلیفورنیا میں بیس ہے ۔ ابتدائی طور پر یہ مستقبل میں ویپن سسٹم ڈویلپ کرنے پر کام کرتا تھا ۔ بعد میں اس نے اپنا سکوپ وسیع کرتے ہوئے ایجوکیشن ، ہیلتھ کئر ، انٹرنیشنل ریلیشن اور ٹیکنالوجی پر کام شروع کیا ۔ رینڈ پبلک پالیسی چیلینج فیصلہ سازی میں مدد کے لیے کام کرتا ہے ۔

رینڈ کارپوریشن نے اس پراجیکٹ پر ایک تحقیقی رپورٹ 20 فروری 2025 کو شائع کی ہے ۔ اس رپورٹ کی تیاری کے لیے انڈیا پاکستان سے ماہرین کو شامل کیا تھا ۔ ان ماہرین کا کہنا تھا کہ اس کاریڈور کی تعمیر میں معاشی مشکلات زیادہ نہیں ہیں ۔ جیو پولیٹکل پریشر ، بڑی طاقتوں کے تعلقات اور محاذ آرائی ، اس کاریڈور کے ممبر ملکوں میں اعتماد کا بحران ، دہشت گردی ، سیاسی عدم استحکام اصل بڑے چیلنج ہیں ۔

دونوں ملکوں کے ماہرین نے بڑی طاقتوں کی شمولیت ، اس سے حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی ، سرمائے اور سپورٹ کو بھی کم اہم قرار دیا ۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ان طاقتوں کو شامل کرنے سے زیادہ ان کو اثرانداز ہونے سے روکنا زیادہ اہم ہے ۔ بڑی طاقتوں سے یہاں مراد امریکہ یورپ روس اور چین ہی ہیں ۔

یہ کاریڈور اگر تعمیر ہو تا ہے تو یقینی طور پر سنٹرل ایشیا کے روس اور چین پر انحصار کو بہت کم کر دے گا ۔ پاکستان اور ایران کی معیشت کو گہرائی اور وسعت دے گا ، جبکہ انڈیا کو یورپ کی طرف آسان رسائی دینے کے علاوہ نئی مارکیٹوں اور سپلائی چین فراہم کرے گا ۔

نوٹ : ایسٹ ویسٹ کاریڈور دو ہیں ۔ گریٹر میکانگ سب ریجن ایسٹ ویسٹ کاریڈور تعمیر ہو چکا ہے ۔ یہ میانمار ، تھائی لینڈ ، لاؤس اور ویتنام کو ملاتا ہے۔ اس کاریڈور نے تھائی لینڈ اور ویتنام کا انڈسٹریل لینڈ سکیپ ہی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ۔

انڈیا پاکستان کو ایران اور افغانستان کو سنٹرل ایشیا کے پانچ ملکوں سے ملانے والا ایسٹ ویسٹ کاریڈور الگ ہے ۔ اس کاریڈور بنانے کے لیے تحقیقی رپورٹ میں گائڈ لائین بھی دی گئی ہیں ۔ جن کے مطابق ممبر ملکوں کو

EWEC association (EWECA)

ان گائڈ لائین کے مطابق تمام نو ملکوں کو اک باختیار باڈی بنانی چاہئے ۔ جس میں ہر ممبر کا ایک ہی ووٹ ہو ۔ اس کا نام ایسٹ ویسٹ اکنامک کاریڈور ایسو سی ایشن ہونا چاہئے ۔ یہ ایسو سی ایشن با اختیار ہو اس کو وسیع اختیارات کے ساتھ ممبر ملکوں کے اندرونی اور بیرونی مسائل کے لیے رابطے کا کام کرنا چاہئے

۔ شارٹ ٹرم میں یہ ایسو سی ایشن اعتماد سازی ، اتفاق رائے اور فیصلہ سازی کا کا کام کرے ۔ایسوسی ایشن ایسا گورننس سٹرکچر جو اتفاق رائے قائم کرے اور بڑھائے اس پر کام کرے ۔ یہی ایسو سی ایشن بڑی طاقتوں کے ساتھ بھی روابط بڑھانے کا کام کرے ۔ ابتدائی طور پر صرف ان پراجیکٹ پر کام کرنا چاہئے جن پر اختلاف نہ ہوں ۔

اگر ایک امریکی تھنک ٹینک ایسٹ ویسٹ کاریڈور پر کام کر رہا ہے ۔ تو اس میں اشارے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہمارا ریجن آئندہ کس انداز میں تبدیل ہو سکتا ہے ۔ دنیا ہمارے خطے کے پوٹینشل بارے حساب لگا لگا کر تھک رہی ہے ۔ خود خطے کے ممالک اک دوسرے سینگ پھنسانے میں ہی خوشی اور جوش محسوس کرتے ہیں ۔ ایسی تحقیقاتی رپورٹیں بیچاری کیا بیچتی ہیں ۔ ہماری ترقی کرنے کی نیت ہو بھی تو ہمیں شریکوں کی ٹانگ کھینچنے اور ان کے سامنے چوڑا ہو کر پھرنے میں جو سواد آتا ہے ۔ وہ سواد ترقیوں میں بھلا کہاں ملے گا ۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

ایران ایسٹ ویسٹ اکنامک کاریڈور پاکستان وسی بابا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران پاکستان سنٹرل ایشیا کے ایسو سی ایشن اس کاریڈور بڑی طاقتوں پر کام کر کے ساتھ کام کرے کا کام کے لیے

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی