قابض انتظامیہ سکیورٹی کلیئرنس کے نام پر کشمیریوں کو ہراساں کر رہے ہیں، روح اللہ مہدی
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
بھارتی پارلیمنٹ کے رکن کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ بھارتی وزارت داخلہ کے ساتھ اٹھایا تھا لیکن کوئی جواب نہیں ملا، یہ کارروائی آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل کانفرنس کے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ کی طرف سے سکیورٹی کلیئرنس کے نام پر کشمیریوں کو ہراساں کئے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آغا سید روح اللہ مہدی نے بھارتی پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قابض انتظامیہ سکیورٹی کلیئرنس کے نام پر آزادی پسند کشمیریوں اور ان کے اہلخانہ کو انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ "اگر کوئی کشمیری بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کی جدوجہد میں شامل پایا جاتا ہے، تو اس کے پورے خاندان اور دیگر رشتہ داروں کو بدترین انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اس کی ملازمت کیلئے سکیورٹی کلیئرنس، پاسپورٹ کی منظوری، حکومتی معاہدوں اور کاروباری کیلئے دیگر منظوریوں سے بھی منظم طریقے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی آئین اور قانون کے خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے یہ مسئلہ بھارتی وزارت داخلہ کے ساتھ اٹھایا تھا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سکیورٹی کلیئرنس انہوں نے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔