عمران کیلئے ریلیف، امریکا میں مقیم پاکستانی، پی ٹی آئی کی بیک چینل کوششوں میں شامل ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
مکّہ مکرمہ (نیوز ڈیسک) امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں اور تاجروں کے ایک گروپ نے اسلام آباد میں ایک سینئر عہدیدار اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی ہے۔
یہ روابط پی ٹی آئی اور اس کے ہمدردوں کی عمران خان کیلئے کچھ ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ بیک چینل کی یہ کوششیں اُن پس پردہ مذاکرات سے الگ ہیں جو پی ٹی آئی اور متعلقہ حلقوں کے درمیان ہوئی تھیں۔
اگرچہ توقع ہے کہ پی ٹی آئی ور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بیک چینل مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں لیکن تاحال کسی کوشش میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پی ٹی آئی کے کچھ رہنما، جو ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کرتے رہے ہیں، بیک چینل مذاکرات کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں۔
ملٹری اسٹیبلشمنٹ مسلسل اس بات پر اصرار کرتی رہی ہے کہ وہ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں سے بات نہیں کرے گی اور یہ سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ وہ آپس میں سیاست اور اس سے جڑے امُور پر بات چیت کریں۔ تاہم پی ٹی آئی کے کچھ رہنمائوں نے بیک چینل مذاکرات کے حوالے سے بات کی ہے۔
امریکا میں مقیم ڈاکٹروں اور تاجروں کی ایک اہم عہدیدار اور عمران خان کے ساتھ بات چیت سے آگاہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ایسی کوششوں کی کامیابی کا انحصار پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اور عمران خان کے رویے پر ہے۔
عمران خان اور پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اور پارٹی کے غیر ملکی چیپٹرز بالخصوص پی ٹی آئی کا امریکا اور برطانیہ کا چیپٹر فوج اور اس کی اعلیٰ کمان کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ پارٹی کے سوشل میڈیا پر فوج اور اس کی کمان کیخلاف یکے بعد دیگرے مہمات چلائی گئیں۔
جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جبکہ عمران خان کی رہائی کیلئے اسلام آباد اور جی ایچ کیو پر دبائو ڈالنے کی خاطر واشنگٹن اور لندن سمیت بااثر عالمی دارالحکومتوں سے رابطے کیے گئے۔ پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کے پروگرام کو نقصان پہنچانے کے علاوہ تحریک انصاف ملک کی فوج پر پابندیاں عائد کرانے کیلئے بھی سرگرم رہی ہے۔
پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت، جو خود پارٹی کے سوشل میڈیا اور اس کے غیر ملکی چیپٹرز کو پارٹی اور اس کی اعلیٰ قیادت کیلئے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے، جانتی ہے کہ پارٹی اور اس کے جیل میں قید رہنما کیلئے حالات اس وقت تک نہیں بہتر نہیں ہو سکتے جب تک پی ٹی آئی سوشل میڈیا اور عمران خان فوج کے ادارے اور اس کی اعلیٰ کمان پر تنقید بند نہیں کرتے۔
اب جبکہ امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں اور تاجروں کے وفد نے ایک اہم عہدیدار اور عمران خان سے ملاقات کی ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا عمران خان اور پارٹی سوشل میڈیا کچھ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی اعلیٰ قیادت کے حالات صرف اسی صورت بہتر ہو سکتے ہیں جب وہ منفی سیاست بند، فوج کے ادارے کو نشانہ بنانے سے گریز کریں اور معیشت کو نقصان نہ پہنچائیں۔ پی ٹی آئی اور اس کے ہمدردوں کیلئے اہم ترین معاملہ یہ ہے کہ عمران خان کو ریلیف ملے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکا میں مقیم سوشل میڈیا اور اور اس کی اعلی پی ٹی ا ئی اور اور عمران خان پی ٹی ا ئی کے اور اس کے بیک چینل
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔