Express News:
2026-06-03@05:37:22 GMT

بل فائٹنگ

اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT

مجھے ایک بار اسپین میں بل فائٹنگ دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ وہ ایک لمبی گیم تھی جس کے تین حصے تھے‘ گول اسٹیڈیم میں دائرے کی صورت میں تماشائی بیٹھے تھے اور میدان کے درمیان میں بل فائیٹر سفید چست پتلون اور شرٹ پہن کر کھڑا تھا‘ اس کے سر پر رنگین ہیٹ تھا اور اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کا کپڑا تھا‘ اسٹیڈیم میں ’’ہے تورو‘ ہے تورو‘‘ کے نعرے لگ رہے تھے‘ نعروں کی آوازوں کے درمیان لکڑی کا گیٹ کھلا اور خوف ناک بدمست بھینسا دوڑ کر میدان میں آ گیا اوراس کے بعد کھیل شروع ہو گیا‘ کھیل کے پہلے فیز میں بل فائیٹر سرخ رنگ کے کپڑے سے بل کو تھکانے میں مصروف ہو گیا۔

 بل دور سے دوڑ کر آتا تھا‘ فائیٹر اسے کپڑے میں الجھا کر پاؤں پر گھوم جاتا تھا اور بھینسا اسے چھوئے بغیر دور نکل جاتا تھا‘ یہ فیز دو گھنٹے جاری رہا‘ اس میں بھینسا بری طرح تھک گیا اور آخر میں ایک سائیڈ پر کھڑا ہو گیا‘ بل فائیٹر اس کے قریب پہنچ کر کپڑا لہراتا رہا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا‘ اس کے ساتھ ہی کھیل کا دوسرا فیز شروع ہو گیا‘ اسٹیڈیم کے سائیڈگیٹس سے تین گھڑ سوار نکلے‘ ان کے ہاتھوں میں بڑے بڑے بھالے اور تیر کمان تھے‘ انھوں نے دور سے بھینسے کو تیر مارنا شروع کر دیے‘ردعمل میں بھینسا جان بچانے کے لیے بھاگنے پر مجبور ہو گیا‘ سوار بھی گھوڑوں پر اس کے پیچھے دوڑ پڑے‘ وہ اس کے قریب پہنچتے تھے۔

 اسے بھالے سے زخمی کرتے تھے اور پھر دور بھاگ جاتے تھے‘ یہ سلسلہ بھی گھنٹہ بھر جاری رہا‘ بھینسا اس دوران زخمی ہوتا رہا اور اس کے زخموں سے خون رستا رہا یہاں تک کہ وہ نڈھال ہو کر زمین پر گر گیا‘ اس کے گرتے ہی بل فائیٹر دوبارہ اسٹیڈیم میں داخل ہو گیااور یوں کھیل کا تیسرا فیز شروع ہو گیا‘ بل فائیٹر کے ہاتھ میں اس بار تلوار تھی‘ اس نے ننگی تلوار کے ساتھ پورے اسٹیڈیم کا چکر لگایا‘ تماشائیوں نے سیٹیوں اور نعروں کے ساتھ اس کا استقبال کیا‘ وہ پورے اسٹیڈیم کی داد وصول کرنے کے بعد نڈھال بھینسے کے سر پر پہنچا‘ تماشائیوں کی طرف مڑ کر دیکھااور تلوار فضا میں لہرادی‘ پورے اسٹیڈیم نے ہاتھوں کے انگوٹھے زمین کی طرف ڈاؤن کر کے اسے بھینسے کا سر اتارنے کی اجازت دی اور بل فائیٹر نے بھینسے کی گردن پر تلوار کے وار شروع کر دیے۔

 بھینسا آنکھوں میں خوف‘ بے چارگی اور رحم کی درخواست بھر کر اس کی طرف دیکھتا رہا اور قتل ہوتا رہا‘ اس کے خون کے فوارے اچھل کر اسٹیڈیم کی گرم ریت پر گر رہے تھے‘ وہ تکلیف سے چلا رہا تھا لیکن ہجوم اس ظلم پر سیٹیاں بجا رہا تھا‘ اچھل کر بل فائیٹر کو داد دے رہا تھا اور وحشت میں نعرے لگا رہا تھا‘کھیل کے آخر میں اسٹیڈیم کی ریت پر بھینسے کا سر اور دھڑ الگ الگ پڑا تھا‘ وہ منظر انتہا درجے کا وحشیانہ اور اذیت ناک تھا‘ میں نے جھرجھری لی اورا سٹیڈیم سے نکل گیا جب کہ لوگ تالیاں اور سیٹیاں بجا رہے تھے اور سیٹوں پر کھڑے ہو کر ناچ رہے تھے۔

آپ اگر آج کے پاکستان کو دیکھیں تو آپ کو یہ ملک بھی بل فائٹنگ کا رنگ محسوس ہو گا‘ اس رنگ کا بھینسا ہماری نیشنل اسپرٹ ہے‘بل فائیٹر ہمارے حالات ہیں اورپوری دنیا اس کھیل کی تماشائی ہے اوریہ تالیاں پیٹ کر بل فائیٹرز کو داد دے رہی ہے‘ ہمیں پہلے سرخ کپڑے کے پیچھے دوڑا دوڑا کر بھینسے کی طرح باقاعدہ تھکایا گیا تھاجب ہم تھک کرٹوٹ گئے تو پھر ہم پر تیروں اور بھالوں سے وار کیے گئے‘ ہمیں زخمی کیا گیا تاکہ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے نہ رہ سکیں‘ ہم اسٹیڈیم کی گرم ریت پر گریں اور اس کے بعد کھیل کے تیسرے فیز میں بل فائیٹر آگے بڑھ کر ہمارا سر کاٹ دے‘ یہ ہے کل اسکیم‘ آپ سیاسی محاذ پر دیکھ لیجیے‘ عمران خان کبھی وزیراعظم اسکیم میں شامل نہیں تھا‘ یہ فاسٹ باؤلر تھا‘ اسے سیاست میں صرف تیز گیندیں پھینکنے کے لیے لایا گیا تھا۔

 اس سے صرف ایک کام لیا جا رہا تھا‘ یہ جنرل مشرف کی وکٹوں پر حملہ کرتا رہے‘ یہ پیپلز پارٹی کی وکٹیں اڑاتا رہے اور آخر میں یہ میاں نواز شریف کو سانس نہ لینے دے اور بس آپ2000سے2017تک  خان کی سیاست دیکھ لیں‘ آپ کویہ اپنا فاسٹ باؤلنگ کا کردار ٹھیک ٹھاک نبھاتا ہوا محسوس ہو گا‘ یہ کردار اسی اسپرٹ کے ساتھ مزید چلنا تھا لیکن یہ کھیل اس وقت خراب ہوگیا جب جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اسے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا‘اس سے قبل  خان کو صادق اور امین اور عالم اسلام کا عظیم مجاہد ثابت کرنے کے لیے میڈیا کمپیئن کی گئی اور نوجوانوں کو اس کے گرد جمع کر دیا گیا اور اس کے بعد  خان نے اسٹیبلشمنٹ کی وکٹیں ہی اڑا دیں اور یہ مسلسل یہ کام کرتا چلا جا رہا ہے‘ اب جب بل فائیٹر رنگ میں موجود ہے تو پھر دوسرے کھلاڑی فائدہ کیوں نہ اٹھاتے چناں چہ بھینسے کے دوسرے دشمن بھی میدان میں کود پڑے اور انھوں نے بھی تیر اور بھالے چلانا شروع کر دیے‘ آپ کے پی اور بلوچستان کے حالات دیکھ لیں۔

دنیا میں اس وقت معیشت سب سے بڑا میدان جنگ ہے‘ آپ کے پاس اگر وسائل ہیں‘ انڈسٹری‘ ایکسپورٹس اور فارن ریزروز ہیں تو آپ کام یاب ہیں بصورت دیگر آج کی دنیا میں بھکاریوں‘ طفیلیوں اور معاشی محتاجوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں‘ پاکستان سردست معاشی طفیلی‘ محتاج اور بھکاری ہے‘ ہم چین‘ سعودی عرب اور یو اے ای کی مدد کے بغیر آئی ایم ایف کو بھی قائل نہیں کر پا رہے اگر یہ تین ملک ہمارے خزانے میں جمع اپنی رقم واپس مانگ لیں تو آئی ایم ایف فوراً بھاگ جائے گا اور یوں ہم ڈیفالٹ کر جائیں گے‘ ہمیں اس صورت حال سے صرف معاشی استحکام بچا سکتا ہے اور یہ استحکام اب صرف معدنیات اور قدرتی وسائل سے ممکن ہے‘ انڈسٹری‘ سکل ڈویلپمنٹ اور نیشن بلڈنگ کے لیے کم از کم تیس سال چاہییں اور ہمارے پاس اتنا وقت نہیں‘ ہم فوری طور پر زمین‘ مائینز اور منرلز بیچ کر ہی موجودہ معاشی گرداب سے نکل سکتے ہیں‘ اس حقیقت سے ہمارا ازلی دشمن بھی اچھی طرح واقف ہے۔

 بھارت جانتا ہے ہم اگر معاشی طور پر اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے تو ہم اسے سکون سے نہیں بیٹھنے دیں گے‘ ہم پھر اس سے کشمیر بھی مانگیں گے‘ اپنے دریاؤں کا پانی بھی اور ماضی کے مظالم کا حساب بھی‘ اس کا خیال ہے ہم ڈان ہیں اورڈان جب تک اپنے مسئلوں میں پھنسا رہتا ہے دوسرے اس وقت تک اس سے محفوظ رہتے ہیں جس دن ڈان مسائل سے آزاد ہو جائے یا اس کے دانے پورے ہو جائیں تو وہ آنکھ کھول کر دائیں بائیں دیکھتا ہے اور پھر سب کو کان پکڑا دیتا ہے چناں چہ بھارت چاہتا ہے ہم اپنے مسئلوں سے آزاد نہ ہو سکیں‘ ہم اپنے اندرونی مسائل میں اتنے مصروف رہیں کہ ہمیں بھارت یاد آئے اور نہ کشمیر اور نہ ہی خشک دریاؤں کا پانی چناں چہ اس نے ہمیں کے پی اور بلوچستان میں الجھا رکھا ہے۔

 اب سوال یہ ہے بلوچستان اور کے پی کیوں؟ بھارت سندھ اور پنجاب میں چھیڑچھاڑ کیوں نہیں کر  رہا؟ اس کی دو وجوہات ہیں‘ اول پنجاب اور سندھ کا معیار تعلیم دوسرے دونوں صوبوں سے بہتر ہے لہٰذا یہاں کے لوگ نسبتاً سمجھ دار ہیں‘ یہ جلد پروپیگنڈے میں نہیں آتے‘ دوم سندھ اور پنجاب میں کوالٹی آف لائف بہتر ہے‘ لوگ شہروں میں رہ رہے ہیں‘ ان کے پاس بجلی‘ سڑک‘ اسکول‘ اسپتال‘ مکان اور روزگار کے ذرایع ہیں اور جہاں یہ تمام سہولتیں موجود ہوں وہاں بغاوت کے امکانات کم ہوتے ہیں‘ انقلاب فرانس‘ انقلاب روس اور انقلاب ایران بھی شہر کے لوگ نہیں لے کر آئے تھے‘ یہ بھی کسانوں اور مزدوروں کا کمال تھا اور وہ لوگ دور دراز علاقوں سے دارالحکومتوں میں آئے تھے اور انھوں نے بادشاہوں سے پہلے بڑے شہروں کے امراء کو اپنا لقمہ بنایا تھا چناں چہ پنجاب اور سندھ دشمنوں سے بچے ہوئے ہیں اور ان کا فوکس کے پی اور بلوچستان ہیں‘ اس فوکس کی بھی اب دو وجوہات ہیں۔

 پہلی وجہ تعلیم اور روزگار کی کمی ہے‘ یہ علاقے تعلیم بالخصوص سکلڈ ایجوکیشن میں پیچھے ہیں اور اس وجہ سے یہاں بے روزگاری ہے اور دوسری وجہ دونوں صوبوں کی زمین میں خزانے چھپے ہیں‘ بلوچستان میں سونے‘ تانبے‘ لوہے اور کوئلے اور کے پی میں گیس اور تیل کے وسیع ذخائر ہیں ‘ یہ ذخائر چند برسوں میں ملک کو معاشی لحاظ سے قدموں پر کھڑا کر سکتے ہیں اور یہ بھارت کے لیے قابل قبول نہیں چناں چہ اس وقت بل فائٹنگ کے رنگ میں موجود بھینسے پر دو طرف سے حملے ہو رہے ہیں‘ اندرونی حملے اور بیرونی حملے‘ اندرونی محاذ پر عمران خان اور ان کے خودکش نوجوان سرگرم ہیں‘ خان بے شک اس وقت مقبول ترین لیڈر ہیں لیکن یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مقبولیت کے کندھے پر بیٹھ کر اقتدار میں آئے تھے‘ زیلنسکی نے یوکرین کو ملبے کا ڈھیر بنوا دیا جب کہ ٹرمپ امریکا کے ساتھ پوری دنیا کو تباہ کر رہے ہیں۔

عمران خان بھی اگر مقبولیت کی وجہ سے اقتدار میں آگیا تو یہ اس ملک کا کیا حشر کرے گا آپ سوچ بھی نہیں سکتے‘ ان کے پاس ایسا ایسا گنڈا پور موجود ہے کہ آپ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے اور یہ بھی اس شکل میں ممکن ہو گا جب ہاتھ یا کان بچ سکیں گے جب کہ بیرونی محاذ پر بھارت سرگرم عمل ہے‘ یہ نہیں چاہتا کے پی اور بلوچستان میں امن آئے‘ کیوں؟ کیوں کہ اگر یہاں امن ہو گیا تو پاکستان تیل بھی نکال لے گا اور سونا اور تانبا بھی اور اگر یہ ہو گیا تو یہ معاشی طور پر قدموں پر کھڑا ہو جائے گا لہٰذا سوچیں اگر غریب پاکستان بھارت کے لیے اتنی بڑی تھریٹ ہے تو یہ امیر ہونے کے بعد اس کے ساتھ کیا کرے گا؟۔

آپ اگر اس سیناریو پر غور کریں تو آپ پھرچند لمحوں میں سمجھ جائیں گے‘ 8اپریل کو جب اسلام آباد میں منرلز سمٹ ہو رہی ہے‘اس میں دنیا بھر سے سرمایہ کار آ رہے ہیں اور عین اس وقت اختر مینگل کوئٹہ کا محاصرہ کر رہے ہیں اور بی ایل اے پاکستان سے علیحدگی کا نعرہ لگا رہی ہے‘ کیوں؟ آپ اس کیوں کا جواب تلاش کریں گے تو آپ کو بل فائٹنگ کا یہ سارا کھیل سمجھ آ جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے پی اور بلوچستان اسٹیڈیم کی بل فائٹنگ بل فائیٹر اور اس کے کے ساتھ ہیں اور رہے ہیں چناں چہ رہا تھا تھا اور تھے اور رہے تھے ہے اور اور ان ہو گیا کے لیے کے بعد اور یہ

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی