ایل پی جی کے ناقص اسٹوریج ٹینکس، باؤزرز اور سلنڈر بنانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
لاہور:
اوگرا کا غیرقانونی اور ناقص ایل پی جی مصنوعات بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مقامی انتظامیہ کے تعاون سے لاہور کے نواحی علاقوں میں واقع ایل پی جی اسٹوریج ٹینکس، باؤزرز اور سلنڈر تیار کرنے والی فیکٹریوں کا مشترکہ طور پر معائنہ کیا۔
معائنے کے دوران ایل پی جی مصنوعات تیار کرنے والی تین فیکٹریوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں ایم/ایس ایلیٹ میٹل ٹیک (پرائیویٹ) لمیٹڈ، ایم/ایس ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور ایم ایس یونیک میٹل انجینئرنگ سروسز لمیٹڈ شامل ہیں۔
اس دوران ضرورت سے بڑے ایل پی جی باؤزرز کی تیاری، اہم سیفٹی سسٹمز کی عدم موجودگی، سائٹ پر غیر لائسنس یافتہ باؤزرز کی موجودگی اور ڈپٹی کمشنر اور سول ڈیفنس اتھارٹیز سے رجسٹریشن کے بغیر آپریشنز سمیت مختلف ٹیکنیکل اور سیفٹی اسٹینڈرڈز کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا۔
ان خلاف ورزیوں کے باعث ایم ایس ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور ایم/ایس یونیک میٹل انجینئرنگ سروسز لمیٹڈ (دونوں فیکٹریوں) کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیل کر دیا گیا۔
اتھارٹی قابل اطلاق قوانین کے تحت فیکٹریوں کی جانب سے کی گئی خلاف ورزیوں کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں عمل میں لارہی ہے جس کے نتیجے میں غیر قانونی اور ناقص ایل پی جی مصنوعات بنانے والے اداروں فیکٹریوں کو لائسنس کی منسوخی یا فہرست سے اخراج جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اوگرا غیر محفوظ، غیر معیاری اور غیر مجاز مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اوگرا کی جانب سے ملک بھر میں وقتاً فوقتاً معائنوں کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ ایل پی جی مصنوعات کی تیاری میں حفاظتی معیارات اور قانونی تقاضوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایل پی جی مصنوعات ایم ایس
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی