پی ٹی آئی میں کلچربن چکا ہے کسی کو گندا کرنا ہو تو اس پر اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہونے کا الزام لگا دو، شیر افضل
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہا کہ چند لوگوں نے بانی پی ٹی آئی کو حصار میں لیا ہوا ہے، جو لوگ پہلے میرے اور علی امین گنڈاپور کے خلاف ہوئے وہی اب بیرسٹر گوہر کے خلاف بول رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے پاکستان تحریک انصاف میں کلچر بن چکا ہے کہ کسی کو گندا کرنا ہو تو اس پر اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہونے کا الزام لگا دو۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہا کہ چند لوگوں نے بانی پی ٹی آئی کو حصار میں لیا ہوا ہے، جو لوگ پہلے میرے اور علی امین گنڈاپور کے خلاف ہوئے وہی اب بیرسٹر گوہر کے خلاف بول رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا سلمان اکرم راجا نے بیرسٹر گوہر کو ساتھ بٹھا کر ان کی تضحیک کی، کبھی ایسا فیصلہ نہیں ہوا کہ بہنیں نہیں جائیں گی تو ملاقات کا بائیکاٹ ہو گا، پہلے بہنیں نہیں گئیں تو سلمان اکرم راجا خود بھی ملاقات کے لیے چلے گئے تھے۔
بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی ہے، پارٹی میں غلط تصویر پیش کی جاتی ہے کہ بانی اسٹیبلشمنٹ سے مذکرات کے حامی نہیں ہیں۔ شیر افضل مروت کا کہنا تھا پی ٹی آئی کو اپنے سوشل میڈیا سے اب فیصلہ کن طور پر دو دو ہاتھ کرنا ہوں گے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی شیر افضل مروت نے بتایا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف میں تین پریشر گروپس ہیں، جن میں سوشل میڈیا سب سے اہم ہے، یوٹیوبرز ڈالرز کمانے کے لیے پی ٹی آئی کا جو بیانیہ بناتے ہیں اس کا نقصان پاکستان میں پارٹی اور عمران خان کو چکانا پڑتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شیر افضل مروت کا کہنا کا کہنا تھا پی ٹی آئی کے خلاف
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔