آنٹی کی بہن سے پیار میں مبتلا شخص نے دھمکی دینے والے انکل کو موت کے گھاٹ اتار دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
بھارتی ریاست اترپردیش میں آنٹی کی بہن سے پیار میں مبتلا شخص نے دھمکی دینے والے اپنے انکل کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس بتایا کہ اتر پردیش کے پریاگ راج میں ایک شخص کو مبینہ طور پر اپنے انکل کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جب کہ مقتول نے ملزم کو اپنی آنٹی کی بہن سے محبت کرنے پر دھمکیاں دی تھیں۔
ملزم آکاش پرجاپتی کو متاثرہ مہندر پرجاپتی کے پڑوسی ضلع کوشامبی سے ایک درخت کے نیچے مردہ پائے جانے کے اگلے روز گرفتار کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا کہ 28 سالہ مہندر اپنے بھتیجے کے ساتھ گھر سے نکلا اور پھر رات بھر گھر نہیں آیا، گھر والوں نے اسے فون کیا تو شروع میں بات ہوئی لیکن پھر اس کا موبائل فون بند ہوگیا۔
اس کے بعد گھر والوں نے پولیس سے رابطہ کیا، پولیس نے تفتیش کی تو پتا چلا کہ فون آکاش کے پاس ہے۔
پوچھ گچھ کے دوران آکاش نے پولیس کو بتایا کہ وہ اس کی آنٹی کی بہن سے محبت کرتا ہے اور مہیندر نے اس کے مبینہ عشق کی وجہ سے اسے دھمکی دی تھی۔
پولیس نے بتایا کہ خوف اور غصے کی وجہ سے آکاش نے اپنے کزن روہت اور دوست وجے کے ساتھ مل کر مہندر کو شراب پلائی اور پھر اس کا سر اینٹ پر مارا۔
پولیس نے ملزم سے خون آلود کپڑے اور مقتول کا موبائل فون برآمد کر لیا، تینوں ملزمان کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا اور پھر جیل بھیج دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔