بھارت کی وکلا تنظیم نے وقف ایکٹ کو متعصبانہ قانون قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
وکلاء تنظیم نے کہا کہ ترمیم کو ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کاحصہ کہا جا سکتا ہے تاکہ طریقہ کار میں رکاوٹوں، جانبدارانہ تحقیقات اور اکثریتی برادری کی طرف سے زمینوں پر قبضے کو قانونی حیثیت دی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا لائرز ایسوسی ایشن فار جسٹس (AILAJ) نے وقف قانون میں حالیہ ترامیم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے متعصبانہ قانون قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے نافذ ہونے والے اس قانون سے بھارت بھر میں بالخصوص مسلمانوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا ہے۔ وکلاء تنظیم نے ایک بیان میں حکومت کی جانب سے وقف املاک پر ممکنہ قبضے سمیت اس قانون کے کئی اہم پہلوئوں کو اجاگر کیا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ کہ یہ قانون پانچ سال تک اسلام پر عمل کرنے والے مسلمانوں کے وقف املاک پر پابندی لگاتا ہے جسے غیر مسلموں اور اس معیار پر پورا نہ اترنے والے مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ قانون ضلع کلکٹر میں اختیارات کو مرکوز کرنے کی کوشش ہے جس سے متنازعہ زمینوں پر بغیر کسی کارروائی کے ریاستی قبضے کو ممکن بنایا گیا ہے۔ نیا قانون وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی نمائندگی کو لازمی قرار دیتا ہے جو ادارہ جاتی خودمختاری کو کمزور کرتا ہے اور جبری قبضے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ترمیم کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف منظم امتیاز، ریاست کی سرپرستی میں اراضی پر قبضے اور مسلمانوں کے دعوئوں کو خارج کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 25 اور 300A کی خلاف ورزی ہے جو مذہب کی آزادی اور جائیداد کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ وکلاء تنظیم نے کہا کہ ترمیم کو ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کاحصہ کہا جا سکتا ہے تاکہ طریقہ کار میں رکاوٹوں، جانبدارانہ تحقیقات اور اکثریتی برادری کی طرف سے زمینوں پر قبضے کو قانونی حیثیت دی جا سکے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وقف ترمیمی قانون 2025ء مسلمانوں کو ظلم و جبر کا نشانہ بنانے اور پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی حکومت کی کوششوں کا تسلسل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تنظیم نے کہا کہ مسلمانوں کے کی طرف
پڑھیں:
وسیم خان باسکٹ بال کی عالمی تنظیم فیبا ایشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو وسیم خان کو باسکٹ بال کی عالمی تنظیم فیبا ایشیا کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا ہے، وہ جنوری 2027 میں باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
فیبا ایشیا کے مطابق وسیم خان نے عہدے کی منتقلی کے عمل کے لیے تنظیم کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے اور وہ موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہاگوپ کھاجیرین سے ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل مکمل رہنمائی اور انتظامی امور کا جائزہ لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل مینیجر آئی سی سی وسیم خان کا عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ
وسیم خان فیبا ایشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے پورے ایشیا میں باسکٹ بال کے فروغ، انتظامی معاملات اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کریں گے، جس کے دائرہ کار میں براعظم کی 44 قومی باسکٹ بال فیڈریشنز شامل ہیں۔
برطانوی نژاد پاکستانی اسپورٹس منتظم وسیم خان کو کھیلوں کے انتظامی شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ وہ اس سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں جنرل منیجر کرکٹ کے عہدے پر فائز رہے، جہاں سے انہوں نے رواں سال استعفیٰ دیا تھا۔
اس سے پہلے وسیم خان 2019ء سے ستمبر 2021ء تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رہے۔ اپنے دور میں انہوں نے پاکستان کرکٹ کے اہم مرحلے میں انتظامی امور سنبھالے، بڑی ٹیموں کے دورہ پاکستان کی واپسی میں کردار ادا کیا اور ملکی ڈومیسٹک کرکٹ نظام میں اصلاحات کی نگرانی کی۔
یہ بھی پڑھیں: باسکٹ بال ٹیم کی کامیابی کا جشن ہنگامہ آرائی میں بدل گیا، فیفا شٹل بس نذرِ آتش
وسیم خان اس سے قبل انگلینڈ کے لیسٹرشائر کاؤنٹی کرکٹ کلب کے چیف ایگزیکٹو اور برطانیہ میں نوجوانوں کی کرکٹ کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘چانس ٹو شائن’ سے بھی وابستہ رہے۔
ان کی تقرری کو بین الاقوامی کھیلوں کی انتظامیہ میں پاکستانی نژاد افراد کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ کرکٹ کے بعد باسکٹ بال کے عالمی نظام میں بھی اعلیٰ انتظامی عہدہ سنبھالنے والے چند پاکستانی نژاد کھیلوں کے منتظمین میں شامل ہوگئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایگزیکٹو ڈائریکٹر باسکٹ بال پی سی بی فیبا وسیم خان