اسلام آباد (نیوز ڈیسک) فیئر ٹریڈ اِن ٹوبیکو (FTT) کے چیئرمین امین ورک نے ایک تفصیلی گفتگو میں عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے پاکستان میں نمائندہ کی تمباکو کنٹرول پالیسیوں اور ٹیکس نظام سے متعلق حالیہ بیانات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں یک طرفہ، بے بنیاد اور زمینی حقائق سے لاتعلق قرار دیا۔

امین ورک نے گفتگو کا آغاز WHO عہدیدار کی طرف سے پیش کیے گئے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے کیا۔ “ہمیں پوچھنا چاہیے کہ پاکستان میں ہر سال تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے باعث 1,64,000 اموات اور معیشت کو 700 ارب روپے کا نقصان ہونے کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا گیا ہے؟ اس کا ڈیٹا کہاں ہے؟ آڈٹ ٹریل کیا ہے؟ یہ چند این جی اوز کے نیٹ ورک کا بنایا ہوا بیانیہ ہے، جنہیں ممنوعہ بین الاقوامی تنظیموں سے فنڈز ملتے ہیں،” انہوں نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ WHO نمائندہ نے 2023 میں ٹیکس محصولات میں اضافے کو کامیابی قرار دیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس کا بڑا خمیازہ قانونی صنعت کو بھگتنا پڑا، جو اب غیر قانونی تجارت کی وجہ سے سکڑ رہی ہے۔ “وہ یہ تو بتاتے ہیں کہ ریونیو بڑھا، لیکن یہ نہیں کہ پاکستان میں غیر قانونی سگریٹس کا مارکیٹ شیئر 56 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ کوئی بھی سنجیدہ پالیسی مکالمہ اس حقیقت کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے؟” ورک نے سوال اٹھایا۔

فروخت اور عمل درآمد سے متعلقہ رپورٹوں اور مارکیٹ سروے کے مطابق، پاکستان میں فروخت ہونے والے 413 سگریٹ برانڈز میں سے 394 فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جب کہ 286 برانڈز وزارت صحت کی طرف سے لاگو کردہ گرافیکل ہیلتھ وارننگ قانون کی پابندی نہیں کرتے۔ مزید برآں، 40 سے زائد مقامی کمپنیاں فیڈرل ایکسائز اور سیلز ٹیکس ادا کیے بغیر کام کر رہی ہیں۔ “جب آپ قانونی اور غیر قانونی مارکیٹ کے فرق کو نظرانداز کرتے ہیں، تو آپ کی پوری دلیل پاکستان کے زمینی حقائق سے غیر متعلق ہو جاتی ہے،” انہوں نے زور دیا۔

امین ورک نے بار بار ٹیکس بڑھانے کی تجویز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ “جب نفاذ کا نظام کمزور ہو، تو غیر معمولی ٹیکس سے تمباکو نوشی کم نہیں ہوتی، بلکہ صارفین سستے اور غیر قانونی متبادل کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اس سے قانونی صنعت کو نقصان، ٹیکس چوری میں اضافہ اور مجرمانہ نیٹ ورکس کو فائدہ پہنچتا ہے،” انہوں نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ کئی مقامی NGOs، جو مبینہ طور پر ممنوعہ غیر ملکی تنظیموں سے فنڈز حاصل کرتے ہیں، صرف قانونی شعبے کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 40 سے زائد کمپنیوں کے بارے میں خاموش رہتے ہیں۔ “یہ خاموشی محض مشکوک نہیں بلکہ مکمل حکمتِ عملی کے تحت ہے،” انہوں نے کہا۔

انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں پر پاکستان کی سماجی و معاشی حقیقتوں کو نظرانداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قانونی تمباکو صنعت نے پچھلے سال تقریباً 300 ارب روپے کے ٹیکس دیے، اور ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کیا۔ “اس تعاون کو نظرانداز کرنا اور پوری صنعت کو بدنام کرنا صحت عامہ کی وکالت نہیں بلکہ ایک تباہ کن عمل ہے،” انہوں نے کہا۔

آخر میں امین ورک نے حکومت پاکستان، ایف بی آر اور وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے بیانیوں کے اصل مقاصد اور ذرائع کا جائزہ لیا جائے۔ “ہم مقامی زمینی حقائق، تصدیق شدہ ڈیٹا، اور خودمختار پالیسی سازی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم ضابطہ بندی کا خیر مقدم کرتے ہیں، مگر بیرونی ایجنڈے کے تحت بننے والی نام نہاد ہیلتھ پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں،” انہوں نے کہا۔

انہوں نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، منصفانہ ٹیکس نظام، اور غیر قانونی سگریٹ ساز اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی حمایت دہراتے ہوئے کہا، “وہ بیانیہ جو صرف قانونی صنعت کو سزا دیتا ہے اور غیر قانونی مارکیٹ کو پروان چڑھاتا ہے، اسے مکمل طور پر رد کرنا ہوگا۔”

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اور غیر قانونی انہوں نے کہا پاکستان میں کرتے ہیں صنعت کو

پڑھیں:

پاکستان آئیڈل: گھر کی کفیل ایم فل طالبہ ماہم طاہر جیت کیلئے بے قرار

رحیم یار خان کی تحصیل خانپور سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت نوجوان گلوکارہ ماہم طاہر نے اپنی سریلی آواز اور دلکش انداز سے ہر سننے والے کو متاثر کیا ہے۔

بچپن میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا، مگر انہوں نے ہمت، حوصلے اور لگن کا دامن کبھی نہیں چھوڑا، آج یہی آواز ان کی پہچان اور طاقت بن چکی ہے۔

ایم فل کی طالبہ ماہم طاہر نے مختلف کنسرٹس میں پرفارم کر کے ناصرف داد سمیٹی بلکہ اپنے فن کے ذریعے آمدن بھی حاصل کی۔

والد کے انتقال کے بعد گھر کی ذمے داری ماہم اور ان کی والدہ کے کاندھوں پر آ گئی، محدود تنخواہ اور کم آمدن کے باوجود انہوں نے تعلیم اور خوابوں سے سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ماہم طاہرنے حالات کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا، انہوں نے نعت اور عارفانہ کلام کو اپنا اظہارِ فن بنایا اور بغیر کسی استاد کے خداداد صلاحیت کے ساتھ ریاض جاری رکھا، صوفیانہ گائیکی کو اپنا راستہ بنایا اور عابدہ پروین کو اپنا روحانی استاد مانتے ہوئے اپنے انداز کو مسلسل نکھارا۔

ماہم طاہر صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ حوصلے، خودداری اور لگن کی مضبوط مثال ہیں، ان کی کامیابی ہر اُس لڑکی کے لیے پیغام ہے جو حالات سے گھبراتی نہیں بلکہ اُن کا سامنا کرتی ہے اور جیت جاتی ہے۔

ماہم نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گیت گانے کا شوق تھا، نعت خوانی بھی کرتی تھی، والد کو نعتیں سناتی تھی جنہیں وہ بہت پسند کرتے تھے، خوشی نصیبی ہے کہ میں چھوٹے سے شہر سے میں نکل کر ’پاکستان آئیڈل‘ کے بڑے اسٹیج تک آ گئی ہوں اور اپنے شہر، گھر اور اساتذہ کی نمائندگی کر رہی ہوں۔

دوسری طرف ماہم کے بھائی اور والدہ دونوں ماہم کی کامیابی پر بے حد فخر کا اظہار کرتے ہیں، ’پاکستان آئیڈل‘ جیسے بڑے پلیٹ فارم پر ماہم طاہر ہر نئے گیت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور سننے والوں کے دل جیت رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایف بی آر نومبر میں ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہ کر سکا
  • پاکستان آئیڈل: گھر کی کفیل ایم فل طالبہ ماہم طاہر جیت کیلئے بے قرار
  • ای سی او: دہشتگردی ترقی میں رکاوٹ، علاقائی رابطوں کے فروغ کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اسحاق ڈار
  • سابقہ شوہر مجھ سے کم کماتے تھے، محبت کی خاطر شادی کی، مریحہ صفدر
  • مشی خان کا سوشل میڈیا صارفین پر تنقیدی ردعمل، کہا: “زیادہ تر لوگوں کی سوچ گندی ہے”
  • ایس آئی ایف سی کوآرڈینیٹر کا کاروبار دوست معاشی روڈ میپ پیش
  • ایس آئی ایف سی کوآرڈی نیٹر کا کاروبار دوست معاشی روڈ میپ جاری
  • حکومت نے “ستھرا پنجاب پروگرام” کو قانونی شکل دیدی، اتھارٹی قائم
  • انڈسٹری میں سب سے زیادہ فلرٹ کون اداکار کرتا ہے؟ مہوش حیات نے بتادیا
  • ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا غلط استعمال، آئی ایم ایف کا شفافیت بہتر بنانے کا مطالبہ