اسلام آباد(خبرنگار)سعودی عرب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق  سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی شوری کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبد اللہ بن محمد بن ابراہیم الشیخ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، اور عالم اسلام کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی شوری کونسل کے چیئرمین نے پاکستانی پارلیمانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پرتپاک خیر مقدم کرنے ان کا شکریہ کیا  سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا پاکستان اور سعودی عرب کے مابین برادرانہ تعلقات مثالی، گہرے اور وقت کی آزمائش پر پورا اترنے والے ہیں۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیاسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے عوام ایک دوسرے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔پاکستان کی عوام اور حکومت سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات پر فخر محسوس کرتے ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ ان تعلقات میں مزید مضبوطی آئی ہے۔سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ملاقات میں عالم اسلام کے اتحاد، یکجہتی اور امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی ۔سپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے سعودی عرب کے گرینڈ مفتی، شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر اسلامی تعلیمات کی اصل روح اور اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سپیکر قومی اسمبلی سعودی عرب کے ایاز صادق

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم