مودی حکومت وقف کے تعلق سے غلط فہمی پیدا کررہی ہے، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر نے کہا کہ ہمارے درمیان مسلکی اور عقیدے کی بنیاد پر اختلافات ہوسکتے ہیں، لیکن اسکو ہمیں اپنے درسگاہوں تک محدود رکھنا ہوگا اور اس لڑائی کیلئے سبھی کو اتحاد کیساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذریعہ تال کٹورہ انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ تحفظ اوقاف کانفرنس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے صدارتی خطاب میں کہا کہ وقف قانون کے تعلق سے لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے لوگ کہتے ہیں کہ وقف قانون کا مذہب سے تعلق نہیں ہے، تو پھر مذہبی قیدوبند کیوں لگائی ہے، کہا جاتا ہے کہ وقف قانون کا مقصد غریبوں کی مدد کرنا ہے، لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ کوئی بھی نکات یا پہلو بتا دیجیئے جس سے غریبوں کو فائدہ ہوسکتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون کسی بھی طرح سے غریبوں کے حق میں نہیں ہے، ہمیں احتجاج کرنا ہے، یہ ہمارا جمہوری حق ہے، لیکن احتجاج پُرامن ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری صفوں میں لوگ گھس کر امن و امان کو ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں اس سے محتاط رہنا ہے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ ہمیں اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کرنا ہے، ہمارے درمیان مسلکی اور عقیدے کی بنیاد پر اختلافات ہوسکتے ہیں، لیکن اس کو ہمیں اپنے درسگاہوں تک محدود رکھنا ہوگا اور اس لڑائی کے لئے سبھی کو اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے غیر مسلم بھائی اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ہمارے ساتھ ہیں، ہماری مضبوط لڑائی کو جیت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے علماء کرام اس کانفرنس میں شیروانی پہن کر آئے ہیں، کل اگر ضرورت پڑی تو وہ کفن بھی پہن کر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج ان کے ہاتھوں میں گھڑی ہے، کل ضرورت پڑی تو ہتکڑی بھی پہننے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت کہتی ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور غریب مسلمانوں کے مفاد میں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت ملک میں نفرت پیدا کرکے اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ وقف قانون بناکر حکومت نے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کو اجاگر کر دیا ہے، لیکن ہم اپنی پُرامن لڑائی کے ذریعہ اس قانون کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی، امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی، بورڈ کے نائب صدر اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، شیعہ مذہبی رہنما مولانا سید کلب جواد، خواجہ اجمیری درگاہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا سرور چشتی، محمد سلیمان، صدر انڈین یونین مسلم لیگ، عیسائی رہنما اے سی مائیکل، محمد شفیع، نائب صدر ایس ڈی پی آئی، روی شنکر ترپاٹھی، سردار دیال سنگھ وغیرہ موجود تھے۔
قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت نے وقف ترمیمی بل 2024 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا، لیکن اپوزیشن کی مخالفت کے بعد اسے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) میں بھیج دیا گیا۔ جے پی سی کا چیئرمین یوپی کے ڈومریا گنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال کو بنایا گیا تھا۔ مختلف ریاستوں میں کئی میٹنگوں کے بعد 14 ترامیم کے ساتھ اس بل کو منظوری دی تھی۔ جس کے بعد پارلیمنٹ میں اس بل کو منظور کیا گیا۔ اس کے بعد صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھی مہر لگا دی، جس کے بعد یہ قانون بن گیا۔ اس کے بعد مختلف تنظیموں اور کئی اراکین پارلیمنٹ نے اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس پر سماعت جاری ہے۔ حکومت کو جواب داخل کرنے کے لئے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے اس قانون کے کچھ پہلوؤں پر سوال اٹھایا اور چند نکات کے نفاذ پر روک لگا دی ہے۔ عدالت میں اب 5 مئی 2025ء کو اس معاملے کی اگلی سماعت ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلم پرسنل لاء بورڈ کے انہوں نے کہا کہ کہ وقف قانون کے بعد
پڑھیں:
’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ معروف گلوکار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے عیسیٰ خیل میں اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ آخرت کی تیاری کو زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے حال ہی میں صحافی ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، موسیقی اور ذاتی خیالات پر کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے۔ میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، مکمل بن چکی ہے۔ اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا ورنہ بعد میں خود ہی دیکھ لیں گے۔ ہمارا اپنا خاندانی قبرستان بھی ہے، جہاں میں نے اپنے لیے ایک قبر مخصوص کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ چند جگہیں اور بھی ہیں جن میں سے ایک کے بارے میں میں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ میری اہلیہ کے لیے ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ مذاق کر رہا ہوں حقیقت میں صرف اپنی قبر محفوظ کروائی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔
گلوکار نے قبر کے بارے میں بتایا کہ یہ خیال اس وقت آیا جب میں نے ایک فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروائی۔ پھر سوچا کہ میرے لیے بھی ایک جگہ ہونی چاہیے۔ میں اپنے کئی قریبی دوستوں، عزیزوں، خاندان کے افراد اور اپنی والدہ کو کھو چکا ہوں، اسی لیے موت کا خیال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ میری صرف یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے پُرسکون موت عطا فرمائے۔
یہ بھی پڑھیں: عطااللہ عیسیٰ خیلوی کس کے لکھے گانے گا کر مشہور ہوئے؟
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔ ایک صارف نے لکھا قبر پہلے سے بنوانا درست نہیں البتہ کفن کی تیاری کی جا سکتی ہے۔
ایک اور نے تبصرہ کیا صرف قبر تیار کر لینا کافی نہیں، اصل تیاری آخرت کی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان کا ایمان مضبوط ہے، ہم تو قبر کا ذکر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا قبر بنانے کے بجائے اگر اولڈ ایج ہوم بنا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عطااللہ عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی قبر قبر گلوکار ویڈیو وائرل