ریاست جموں کشمیر کی حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئر مین سید صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملہ بھارتی ایجنسیوں کی کارروائی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی عدالت انصاف اور عالمی انسانی حقو ق کے ادارے اور تنظیمیں پہلگام میں ہوئی مذموم کارروائی کی آزادانہ تحقیقات کریں۔ ثابت ہوگا کہ سیاحوں پر حملہ بھارتی ایجنسیوں کی کارروائی ہے۔

سید صلاح الدین احمد نے ان خیالات کا اظہار متحدہ جہاد کونسل کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب میں کیا۔

ترجمان سید صداقت حسین کے مطابق سربراہ جہاد کونسل نے کہا کہ 20مارچ 2000 کو اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت کے موقع پر ضلع اسلام آباد (اننت ناگ)کے علاقے چھٹی سنگھ پورہ میں بھارتی فوجیوں نے بھیس بدل کر سکھ برادری کے35 افراد کو قتل کیا تھا۔

1995جولائی میں الفاران نامی تنظیم کے نام پر غیر ملکی سیاحوں کو قتل کیا گیا۔آج بھارت کے دورے پر آئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی موجودگی میں بھارتی ایجنسیوں نے مجاہدین کشمیر کی مقدس جدوجہد کو نقصان پہنچانے، عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور مقبوضہ کشمیر کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے سیاحوں کو بھینٹ چڑھانے میں مذموم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ ماضی میں بھارت کی یہ کوششیں ناکام ہوگئی ہیں اور دنیا کے سامنے یہ بات آچکی ہے کہ الفاران کے نام پر سیاحوں اور چھٹی سنگھ پورہ میں سکھ بھائیوں کا قتل عام بھارتی ایجنسیوں نے ہی کرایا ہے۔ اس لیے پہلگام کا خونین واقعہ بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے نتیجے میں ثابت کردے گا کہ یہ بھارتی ایجنسیاں ہی ہیں جو مجاہدین کشمیر کو بدنام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پہلگام حملہ حزب المجاہدین ریاست جموں کشمیر متحدہ جہاد کونسل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پہلگام حملہ حزب المجاہدین ریاست جموں کشمیر متحدہ جہاد کونسل بھارتی ایجنسیوں جہاد کونسل

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی