بھارت کی آبی پالیسی پر چین کا شدید ردعمل، پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
بیجنگ (نیوز ڈیسک) بھارت کی مبینہ “آبی دہشت گردی” پر چین نے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ چین کی وزارتِ آبی وسائل کے اعلیٰ افسر وانگ شن زے نے بھارت کی آبی ہتھیار سازی کے خلاف شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، تو چین بھی اسی طرز پر اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔وانگ شن زے نے خبردار کیا کہ چین اب اپنی آبی پالیسی میں انقلابی تبدیلیوں پر غور کر رہا ہے، اور اگر بھارت پانی کو دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتا ہے تو چین کو بھی اسی حکمت عملی کو اپنانے سے کوئی جھجک نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ چین کے کنٹرول میں بہنے والے بڑے دریا، جیسے برہم پتر اور میکانگ، اسٹریٹیجک اہمیت رکھتے ہیں، اور اگر ضروری ہوا تو ان دریاؤں کا بہاؤ روکا جا سکتا ہے۔ چیف انسپکٹر وانگ کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ چین اپنی آبی پالیسی کو واضح اور مؤثر بنائے تاکہ بھارت جیسے ممالک کے آبی دباؤ کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔چین کی طرف سے دریاؤں پر بنائے جانے والے ڈیم منصوبے پہلے ہی عالمی سطح پر زیرِ بحث ہیں، اور اب چین کی تازہ دھمکیوں نے خطے میں آبی تنازعے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ چین کے سخت موقف نے جنوبی ایشیا میں پانی کی سفارت کاری کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مزیدپڑھیں:اہم شخصیات سے متعلق نازیبا ویڈیوز بنانے اور اپ لوڈ کرنے پر 24 گھنٹوں میں 23 مقدمات
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔