سندھ طاس معاہدے کی معطلی،بھارت خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
سندھ طاس معاہدے کی معطلی،بھارت خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے، شرجیل میمن WhatsAppFacebookTwitter 0 24 April, 2025 سب نیوز
کراچی(سب نیوز)سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے بھارت خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو کھلی جارحیت اور جنوبی ایشیا میں امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدام اشتعال انگیز، غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ عمل نہ صرف امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش ہے، بلکہ بھارت کی خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ عالمی توجہ ہٹانے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لیا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ صدر کلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران بھی ایک فالس فلیگ آپریشن میں بے گناہ سکھوں کا خون بہایا گیا تھا۔
سینئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ آج پہلگام میں ایک بار پھر وہی پرانی چال دہرائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی مہم کا ایک موثر اور متحرک حصہ رہا ہے۔ہم نے ہزاروں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کا نذرانہ دے کر دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے پی ایس کے سانحے سے لے کر محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی قربانی تک، ہماری جدوجہد کی فہرست طویل اور عظیم ہے۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی محض آبی تنازع نہیں، بلکہ یہ بھارت کی جنگی ذہنیت کا کھلا ثبوت ہے۔ پاکستان بھارتی اشتعال انگیزی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔انہوں نے عالمی طاقتوں، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین خلاف ورزی کا فوری نوٹس لیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر عالمی فورمز سے رجوع کرنے کا فیصلہ پاکستان کا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر عالمی فورمز سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھارت کی اوچھی حرکت، حکومت پاکستان کا سوشل میڈیا اکاونٹ بلاک کر دیا عمران خان سے ملاقات، پی ٹی آئی رہنماوں کو داہگل اور گورکھ پور ناکے پر روک دیا گیا شواہد کے بغیر الزام تراشی بھارت کا وطیرہ ہے،پہلگام میں سیاحوں پر حملے کی مذمت کرتے ہیں ، سعد رفیق بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعوے بے نقاب، پہلگام حملے کے متاثرین زندہ و سلامت نکلے بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کیا تو پاکستان بھی شملہ معاہدہ ختم کرسکتا ہے، وفاقی وزرا کی پریس کانفرنسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے کی معطلی شرجیل میمن خلاف ورزی نے کہا کہ بھارت کی انہوں نے رہا ہے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔