بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود بند، سول ایوی ایشن اتھارٹی کا نوٹم جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
جاری کردہ نوٹم میں کہا گیا کہ پاکستانی فضائی حدود بھارتی رجسٹرڈ سول اور ملٹری طیاروں کے لیے دستیاب نہیں، بھارتی ایئر لائنز و آپریٹرز کی ملکیت یا لیز پر زیر استعمال طیاروں کےلیے بھی پابندی ہے۔ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایئرلائنز کو مختلف ممالک کی پروازوں کے لئے یومیہ کروڑوں کے اضافی اخراجات کرنا ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانہ فضائی حدود بند کرنے کے فیصلے کے بعد پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے نوٹم جاری کر دیا، جس کے مطابق بھارت کی رجسٹرڈ ائیر لائینز پاکستان کی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکے گی۔ تفصیلات کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے ابتدائی طور پر بھارتی ایئر لائنز کیلئے ایک ماہ کی فضائی پابندی عائد کی گئی۔ جاری کردہ نوٹم میں کہا گیا کہ پاکستانی فضائی حدود بھارتی رجسٹرڈ سول اور ملٹری طیاروں کے لیے دستیاب نہیں، بھارتی ایئر لائنز و آپریٹرز کی ملکیت یا لیز پر زیر استعمال طیاروں کےلیے بھی پابندی ہے۔ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایئرلائنز کو مختلف ممالک کی پروازوں کے لئے یومیہ کروڑوں کے اضافی اخراجات کرنا ہوں گے۔
بھارت سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے والی دو طرفہ پروازوں کی یومیہ تعداد 70 سے 80 جبکہ بعض اوقات 100 سے تجاوز کرتی ہے۔ پاکستانی فضائی حدود کو استعمال کرنے والی بھارتی ایئرلائنز میں ایئر انڈیا، ایئر انڈیا ایکسپریس، اسپائس جیٹ، انڈیگو ایئر اور آکاسا ایئر شامل ہیں۔ بھارتی ایئر لائنز کے لئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے پروازوں کو 2 گھنٹوں کا اضافی وقت درکار ہو گا، پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے والی پروازیں ممبئی، آحمد آباد، لکھنو، دہلی، گوا اور دیگر شہروں سے آپریٹ کی جاتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستانی فضائی حدود بھارتی ایئر لائنز طیاروں کے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔