زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے مزید کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری اعداد وشمار کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستان کے زر مبادلہ ذخائر کی پوزیشن سے متعلق اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ 18 اپریل کو زرمبادلہ کے ذخائر کی مجموعی مالیت 15 ارب 43 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
اعداد وشمار میں کہا گیا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 36 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی اور زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 10 ارب 20 کروڑ 59 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے۔
پاکستان کے 15 ارب 43 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مجموعی ذخائر میں کمرشل بینکوں کا حصہ 5 ارب 23 کروڑ ڈالر ہے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: زرمبادلہ کے لاکھ ڈالر
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔