امن سے کھلواڑ بھارت کو مہنگا پڑے گا: حمزہ شہباز
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
سٹی42: سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور رکنِ قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ برِصغیر کے امن سے کھلواڑ بھارت کو مہنگا پڑے گا۔
بھارتی آبی جارحیت اور دیگر یک طرفہ اقدامات پر اپنے بیان میں حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ بھارت نے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ معطل کیا ہے۔
چیزیں بگڑتی ہیں تو خطہ ہی نہیں دنیا پر اثرات پڑیں گے؛ خواجہ آصف
یہ انٹرنیشنل واٹر ٹریٹی بین الاقوامی سطح پر پالیسی اور ضمانت شدہ معاہدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت آبی جارحیت کے ذریعے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کیلئے عرصے سے بہانے کی تلاش میں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کیلئے مکمل طور پر پُرعزم ہے، وزیراعظم کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی نے قومی جذبات کی ترجمانی کی ہے۔
سلامتی کمیٹی نے بھارت کو دو ٹوک اور متناسب پیغام دیا، بھارت کو بغیر ثبوت پاکستان پر الزام تراشی کی روش ترک کرنا ہوگی۔
بجلی چوری کے خلاف لیسکو کا بڑا آپریشن، 35 افراد رنگے ہاتھوں گرفتار
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔