پہلگام واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی قید دو سے 3 پاکستانیوں کو جیل سے غائب کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
JAMMU:
مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کے بعد مودی حکومت کا جنگی جنون تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور اطلاعات کے مطابق مقبوضہ خطے کی جیلوں میں غیرقانونی طور پر قید دو سے تین پاکستانیوں کو غائب کردیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی جموں جیل میں غیر قانونی اور جبری طور پر حراست میں رکھے گئے دو سے تین پاکستانی شہریوں کو جیل سے غائب کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان غیر قانونی طور پر حراست میں لیے جانے والے پاکستانیوں کو کسی بھی مذموم کارروائی میں استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ بھارتی فوج اور پولیس پہلے بھی متعدد بار فیک انکاؤنٹر کرنے کی وجہ سے بد نام زمانہ ہے۔
اس ضمن میں ذرائع کا کہنا تھا کہ کئی فیک انکاؤنٹرز پہلے بھی منظر عام پر آ چکے ہیں۔
ذرائع نے مزید کہا کہ ان معصوم لوگوں کو غیر قانونی طور پر مار کر ناکام پہلگام فالس فلیگ کے مردے میں جان ڈالنے یا اس طرح کے کوئی اور فالس فلیگ آپریشن کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔