شاہ رخ خان کے ’’منت‘‘ چھوڑنے پر مقامی دکانداروں کو کیا نقصان ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
ممبئی کے علاقے باندرا میں واقع شاہ رخ خان کا مشہور زمانہ محل ’’منت‘‘ آج کل غیر معمولی خاموشی کی لپیٹ میں ہے۔ وجہ کچھ اور نہیں بلکہ خود کنگ خان کی عارضی رخصتی ہے۔
شاہ رخ خان اپنے گھر کی دو سالہ تزئین و آرائش کے سبب اپنی فیملی کے ساتھ پالی ہل کے ایک پرتعیش اپارٹمنٹ میں منتقل ہوچکے ہیں۔ لیکن ان کی یہ نقل مکانی منت کے باہر موجود دکانداروں کے لیے کسی آندھی سے کم ثابت نہیں ہوئی۔
منت، جو کبھی مداحوں کا میلہ لگا رہتا تھا اور جہاں ہر لمحہ سیلفیز کی جھڑی لگی رہتی تھی، اب سنسان نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں منت کے باہر بیٹھے آئس کریم فروش اور دیگر چھوٹے دکاندار اپنے دکھ کا اظہار کرتے نظر آئے۔ ایک آئس کریم فروش نے کہا، ’’بہت فرق پڑا ہے۔ اب شاہ رخ یہاں رہتے بھی نہیں اور جب سے لوگوں کو یہ پتہ چلا ہے، عوام آنا بھی کم ہوگئے ہیں۔‘‘
View this post on InstagramA post shared by Instant Bollywood (@instantbollywood)
ایک اور دکاندار نے کہا ’’پہلے لوگ آتے تھے، ٹھہرتے تھے، منت کے باہر گھنٹوں بیتاتے تھے۔ اب جیسے ہی انہیں پتہ چلتا ہے کہ شاہ رخ یہاں نہیں رہتے، وہ فوراً رکشہ یا ٹیکسی گھما کر واپس چلے جاتے ہیں۔‘‘
دکانداروں کےلیے یہ تبدیلی کسی صدمے سے کم نہیں۔ ایک نے تو یہاں تک کہہ ڈالا، ’’شاہ رخ ہیں تو منت ہے، نہیں تو یہ کچھ بھی نہیں!‘‘ اس سادہ مگر گہرے جملے نے نہ صرف شاہ رخ خان کی مقبولیت کا اندازہ دے دیا بلکہ یہ بھی ظاہر کر دیا کہ کیسے ایک ستارے کی موجودگی پورے علاقے کی معیشت کو جلا بخشتی ہے۔
شاہ رخ خان، گوری خان اور ان کے بچے آریان، سہانا اور ابراہیم اب پالی ہل کے ایک لگژری اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہیں۔ اداکاری کے میدان میں شاہ رخ خان اپنی بیٹی سہانا خان کے ساتھ فلم ’’کنگ‘‘ میں نظر آئیں گے۔ لیکن ابھی تو ’’منت‘‘ کے باہر بیٹھے دکانداروں کی دعا ہے کہ کاش ’کنگ‘ جلد واپس آجائیں تاکہ ان کی دکانیں پھر سے رونق سے بھرجائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہ رخ خان کے باہر
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔