بھارت سے پاکستانی شہریوں کی واپسی، پی ایس ایل کے 18 براڈ کاسٹرز انڈیا روانہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
پاک بھارت کشیدگی کے باعث واہگہ/اٹاری بارڈر بدستور بند ہے، تاہم دونوں ملکوں کے شہریوں کی واپسی کا عمل جاری ہے۔
ہفتے کے روز بھارت سے 81 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچے جبکہ پاکستان سے 342 بھارتی شہری واپس روانہ ہوئے۔
واپس جانے والے بھارتی شہریوں میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی براڈکاسٹنگ ٹیم کے 18 ارکان بھی شامل تھے، جنہیں حکومت پاکستان کی خصوصی ہدایت پر فوری طور پر واہگہ کے راستے روانہ کیا گیا۔
ادھر بھارتی پولیس نے پاکستان سے گئی فیملی کو بھانجی کے نکاح میں شرکت کا بھی موقع نہ دیا، کراچی سے تعلق رکھنے والی فیملی آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ واپس لوٹ آئی۔
سانگھڑ میں بیاہی گئی بھارتی خاتون کو بھی واپس پاکستان آنے سے روک دیا گیا جبکہ خاتون اپنے کم سن پاکستانی بیٹے کو لیکر واپس پاکستان آنے کی منتظر ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے ارشد اپنی انڈین بیوی کے ساتھ ان کے بھائی اور بہنوئی کے انتقال پر اظہار تعزیت اور بھانجی کی شادی میں شرکت کے لیے سہارنپور انڈیا گئے تھے۔
ان کے پاس 45 دن کا انڈین ویزا ہے 26 اپریل کو ان کی بھانجی کا نکاح تھا۔
محمد ارشد نے بتایا پولیس والے ان کے سسرال والوں کے پاس آئے اور کہاں کہ پاکستانی مہمانوں کو واپس جانا ہوگا۔ ان سے منت سماجت کی کہ نکاح کی تقریب میں شرکت کی اجازت دے دیں ،ایک دن بعد واپس لوٹ جائیں گے لیکن پولیس اہل کار نہیں مانے۔
انہوں نے کہا اوپر سے آرڈر ہیں آپ لوگوں کو واپس جانا ہوگا۔
سانگھڑ میں بیاہی گئی بھارتی خاتون ثمینہ بانو اپنے چار سالہ بیٹے کے ساتھ اٹاری بارڈر پر بیٹھی ہیں۔ ان کے پاس انڈین جبکہ ان کے بیٹے کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہے۔
ثمینہ نے بتایا کہ وہ اپنے والدین سے ملنے آئیں تھیں۔ اب واپس پاکستان اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہیں جبکہ انڈیا والے کہتے ہیں کہ ان کے شوہر اور بیٹا واپس پاکستان جاسکتے ہیں لیکن وہ اب واپس پاکستان نہیں جاسکتیں کیونکہ وہ بھارتی شہری ہیں۔
حکومت پاکستان نے بھارت سے تعلق رکھنے والے تمام غیرملکیوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی تھی، تاہم ایسے بھارتی شہری جو ملٹی پل انٹری ویزا رکھتے ہیں، ان پر یہ پابندی لاگو نہیں کی گئی۔
یہ ویزا ان بھارتی شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے جن کی شادیاں پاکستان میں ہوچکی ہیں اور جو پاکستانی شہریت کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔
دوسری جانب، بھارت نے بھی پاکستان سے گئے شہریوں کے لیے ہدایات جاری کرتے ہوئے سارک ویزا پر موجود پاکستانیوں کو 26 اپریل اور میڈیکل ویزا رکھنے والوں کو 29 اپریل تک بھارت چھوڑنے کی مہلت دی ہے۔
البتہ لانگ ٹرم ویزا رکھنے والے افراد، جن میں اکثریت ہندو پاکستانیوں کی ہے جو بھارت میں سکونت اختیار کر چکے ہیں، اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔ پاکستانی سفارتی عملہ بھی ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہے۔
کشیدہ حالات کا سب سے زیادہ اثر اُن خواتین پر پڑا ہے، جنہوں نے سرحد پار شادیاں کیں اور جو ان دنوں اپنے میکے میں مقیم تھیں۔
بھارتی حکام کی سخت پالیسیوں کے باعث پاکستانی خواتین جو بھارت میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئی تھیں، واپس اپنے گھروں کو لوٹنے سے قاصر ہیں۔
اسی طرح بھارتی خواتین جو پاکستان میں بیاہی گئی تھیں اور اس وقت بھارت میں ہیں، انہیں بھی وطن واپسی کی اجازت نہیں دی جارہی۔
انسانی رشتے اور محبتوں کی یہ کہانیاں اس وقت واہگہ کی سرحد پر رکی ہوئی ہیں، جہاں ہر دن ملاقاتوں کی آس لیے سینکڑوں آنکھیں بارڈر کی طرف دیکھتی ہیں۔
ادھر، واہگہ پر بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کے باعث کسٹمز اور امیگریشن کا عملہ اتوار کے روز بھی اپنی خدمات سرانجام دے گا تاکہ اس عمل کو شفاف اور ہموار طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: واپس پاکستان بھارتی شہری کے پاس
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔