Express News:
2026-06-03@02:08:08 GMT

فن صحافت میں انٹرویو کی اہمیت

اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT

انٹرویو کے لفظی معنی عام طور پرگفتگو، بات چیت اور مکالمے کے سمجھے جاتے ہیں، صحافت میں اسے ایک فن کا درجہ حاصل ہے۔ آج  جس طرح ٹی وی چینلز کے بعد سوشل میڈیا ترقی کر رہا ہے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی اہمیت بیان کرنے سے قبل ہمیں اس کے فنی امورکا جائزہ لینا ہوگا تاکہ اس کی اہمیت زیادہ واضح ہو کر سامنے آئے۔

انٹرویو رسمی گفتگو کا نام نہیں بلکہ فنی مہارت اور ہنر کا نام ہے۔ انٹرویو کے لیے ضروری ہے کہ انٹرویو لینے والا وسیع المطالعہ ہو۔ وسیع المطالعہ کے ساتھ ذہانت بھی رکھتا ہو۔ اس کے پاس مختلف علوم اور شعبہ کے احوال سے باخبری کا کچھ سرمایہ ہونا بھی ضروری ہے۔

کم ازکم جس شخصیت سے انٹرویو لے رہا ہے، اس کے دائرہ علم و فن، اس کے اہم ادوار بالخصوص اس کے سیاسی نظریات اس کی سیاسی جدوجہد سے واقفیت ضروری ہے اگر شخصیت ادبی ہے تو اس کے ادبی نظریات کے ساتھ کم و بیش اس کی ہر تحریر سے واقفیت ضروری ہے۔

اگر کوئی شخصیت سیاست سے تعلق رکھتی ہے تو انٹرویو لینے والے کو اس کے سیاسی پس منظر کے علاوہ ملکی سیاست کا بھی ا دراک ہو‘ اسے معلوم ہوکہ ملکی سیاست میں کیا تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیںاور موجودہ سیاسی صورت حال کس سمت جا رہی ہے اور جس شخصیت کا وہ انٹرویو لے رہا ہے اس کا ملکی سیاست میں کیا کردار ہے۔

انٹرویو کے لیے ضروری ہے کہ انٹرویوکرنے والا سوال کرنے کے فن سے آشنا ہو۔ بعض اوقات سوال و جواب کے بعد ایک سوال ابھرتا ہے یعنی ہر سوال کے جواب میں پیدا ہونے والا عدم اطمینان ایک اور سوال کی گنجائش پیدا کردیتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ ضمنی سوالات تیار کرنے کے گُر سے بھی آشنا ہو۔

ضمنی سوالات کسی جواب کو چیلنج کرنے یا اس کی وضاحت کرنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں، اس کے ذریعے وہ قارئین کے سامنے بات کو زیادہ واضح کرکے پیش کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں خیال رہے کہ سوالات پورے انٹرویو کا مختصر حصہ ہونا چاہیے، جتنا مختصر سوال ہوگا، اس کا جواب اتنا ہی برجستہ اور حقیقت پر مبنی ہوگا لمبے لمبے تمہید پر مبنی سوالات کی صورت میں انٹرویو دینے والے کو سوچ بچار کا موقع مل جاتا ہے، ایسی صورت میں وہ کچھ سچ اورکچھ جھوٹ پر مبنی بات کرکے خود کو محفوظ کر لیتا ہے۔

انٹرویو کرنے والا باصلاحیت اور انٹرویو کے فن میں عبور رکھنے کا حامل ہوگا تو وہ شخصیت چاہے کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتی ہو، اس کی زندگی کے ایسے افکار و واقعات کا کھوج لگانے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو اس کی تقریر یا تحریر میں کسی بھی وجوہات کی بنا پر سامنے نہیں آسکے وہ ان گوشوں کو بے نقاب کرتا ہے یعنی اپنی فنی مہارت سے شخصیت کے دل کی بات کو اس کی زبان پر لے آتا ہے۔

ٹھنڈے دل و دماغ کا مالک ہو، اخلاق سے گری ہوئی گفتگو سے پرہیز کرتا ہو، دلیر اور بے خوف ہو، کسی طاقتور شخصیت سے مرعوب نہ ہوتا ہو، سخت سوالات کرے لیکن شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے کرے۔ غیر جانبدار  اور غیر متعصب ہو، اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کو انٹرویو پر اثرانداز نہ کرے، دیانت دار ہو، جو معلومات حاصل ہوں اسے اپنا مفہوم بنا کر پیش نہ کرے، بلکہ انٹرویو دینے والے نے جو بات کی ہے اسے بغیر کمی و بیشی کے قارئین تک پہنچائے تاکہ حقائق مسخ نہ ہوں۔

انٹرویو لینے والے میں تنقیدی شعور کا ہونا بھی ضروری ہے، تنقیدی شعور نہیں ہوگا تو اسے کیسے پتا چلے گا کہ کون سا موضوع وضاحت طلب ہے، اس لیے انٹرویو لینے والے میں تجسس اور تحقیقی مزاج کا ہونا ضروری ہے۔ انٹرویو لینے والے کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ کوئی بھی معاملہ ہو اس کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں، اس معاملے کے باب میں ان گنت نقطہ نظر یا زاویہ نگاہ ہو سکتے ہیں، انٹرویو لینے والے کی ذمے داری ہے ، وہ ذاتی عصبیت کو بالائے طاق رکھ کر مختلف آرا جو بھی سامنے آئیں، اس کے تمام پہلوؤں کو قاری کے سامنے رکھے تاکہ قاری کے سامنے تمام پہلو واضح ہو کر سامنے آ سکیں۔

گفتگو کا آغاز ہلکی پھلکی گفتگو سے کریں تاکہ انٹرویو دینے والا ذہنی طور پر الجھن کا شکار نہ ہو اور گفتگو کا ایک تسلسل قائم ہو جائے۔ خاندانی  پس منظر، بچپن کا ادوار، تعلیمی مراحل اس کے بعد عملی زندگی کے آغاز کے حوالے سے سوالات کے بعد اپنی ضرورت کے مطابق نظریاتی اور فکری نوعیت کے سوالات کر سکتے ہیں۔ سوالات میں غیر ضروری تفصیلات جن سے قاری کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، اس سے گریز ضروری ہے۔  سوالات بے ربط نہ ہوں، منطقی انداز میں اس طرح ترتیب دیے جائیں کہ اس میں تاریخ، سماج اور ادب کا عکس نظر آئے۔

اب سوال یہ ہے انٹرویو کے مطالعے سے ایک قاری کو کیا حاصل ہوتا ہے اور اس کا مطالعہ کیوں ضروری ہے۔ انٹرویو کے تحت ایک فرد خاص یا شخصیت کی سوانح حیات اور علمی ادبی یا سیاسی کاوشوں کا خاکہ قاری کے سامنے آ جاتا ہے جس کے توسط سے اس عہد کی ادبی یا سیاسی صورت اور اس میں جاری و ساری ماحول واقعات کا قاری مشاہدہ کر سکتا ہے۔ 

اس کے تحت اس کے سماجی، سیاسی اور ادبی شعور میں اضافہ  ہوتا ہے۔کسی بھی شخصیت کی جانب سے جو انٹرویو دیا جاتا ہے تو اس شخصیت کے داخلی جذبات کے ساتھ اس کے تاثرات، تجربات، مشاہدات اور احساسات بھی سامنے آتے ہیں۔ اس سے زندگی کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ساتھ متعلقہ شعبے کے مسائل سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

ادیبوں کے انٹرویو سے ادیبوں کی ذات، ماحول، تخلیقی محرکات اور ان کا سفر، ذہنی اور فکری سفرکا ارتقا، ادبی تحرکات اور اس کے ابلاغ کو سمجھنے میں خاطر خواہ مدد ملتی ہے۔ اس لیے انٹرویو کو ادب کی ایک صنف بھی تصور کیا جاتا ہے بہ شرط یہ کہ انٹرویو میں ادبی اسلوب اور اس کی چاشنی موجود ہو۔

انٹرویو کے مطالعے سے بہت زیادہ پڑھے لکھے قاری کے سامنے بھی مختلف شعبہ زندگی کے مختلف شعبہ جات کے نئے نکات اور نئے زاویے سامنے آتے ہیں جس سے قاری پر نئی باتیں واضح ہوتی ہیں، اس سے زندگی کی پیچیدگیوں اور مشکلات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کی روشنی میں انسان اپنی زندگی کا لائحہ عمل مرتب کر کے کامیاب زندگی گزار سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قاری کے سامنے انٹرویو کے لیے ضروری کی اہمیت ضروری ہے زندگی کے کے ساتھ جاتا ہے اور اس کے بعد

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا