فن صحافت میں انٹرویو کی اہمیت
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
انٹرویو کے لفظی معنی عام طور پرگفتگو، بات چیت اور مکالمے کے سمجھے جاتے ہیں، صحافت میں اسے ایک فن کا درجہ حاصل ہے۔ آج جس طرح ٹی وی چینلز کے بعد سوشل میڈیا ترقی کر رہا ہے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی اہمیت بیان کرنے سے قبل ہمیں اس کے فنی امورکا جائزہ لینا ہوگا تاکہ اس کی اہمیت زیادہ واضح ہو کر سامنے آئے۔
انٹرویو رسمی گفتگو کا نام نہیں بلکہ فنی مہارت اور ہنر کا نام ہے۔ انٹرویو کے لیے ضروری ہے کہ انٹرویو لینے والا وسیع المطالعہ ہو۔ وسیع المطالعہ کے ساتھ ذہانت بھی رکھتا ہو۔ اس کے پاس مختلف علوم اور شعبہ کے احوال سے باخبری کا کچھ سرمایہ ہونا بھی ضروری ہے۔
کم ازکم جس شخصیت سے انٹرویو لے رہا ہے، اس کے دائرہ علم و فن، اس کے اہم ادوار بالخصوص اس کے سیاسی نظریات اس کی سیاسی جدوجہد سے واقفیت ضروری ہے اگر شخصیت ادبی ہے تو اس کے ادبی نظریات کے ساتھ کم و بیش اس کی ہر تحریر سے واقفیت ضروری ہے۔
اگر کوئی شخصیت سیاست سے تعلق رکھتی ہے تو انٹرویو لینے والے کو اس کے سیاسی پس منظر کے علاوہ ملکی سیاست کا بھی ا دراک ہو‘ اسے معلوم ہوکہ ملکی سیاست میں کیا تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیںاور موجودہ سیاسی صورت حال کس سمت جا رہی ہے اور جس شخصیت کا وہ انٹرویو لے رہا ہے اس کا ملکی سیاست میں کیا کردار ہے۔
انٹرویو کے لیے ضروری ہے کہ انٹرویوکرنے والا سوال کرنے کے فن سے آشنا ہو۔ بعض اوقات سوال و جواب کے بعد ایک سوال ابھرتا ہے یعنی ہر سوال کے جواب میں پیدا ہونے والا عدم اطمینان ایک اور سوال کی گنجائش پیدا کردیتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ ضمنی سوالات تیار کرنے کے گُر سے بھی آشنا ہو۔
ضمنی سوالات کسی جواب کو چیلنج کرنے یا اس کی وضاحت کرنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں، اس کے ذریعے وہ قارئین کے سامنے بات کو زیادہ واضح کرکے پیش کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں خیال رہے کہ سوالات پورے انٹرویو کا مختصر حصہ ہونا چاہیے، جتنا مختصر سوال ہوگا، اس کا جواب اتنا ہی برجستہ اور حقیقت پر مبنی ہوگا لمبے لمبے تمہید پر مبنی سوالات کی صورت میں انٹرویو دینے والے کو سوچ بچار کا موقع مل جاتا ہے، ایسی صورت میں وہ کچھ سچ اورکچھ جھوٹ پر مبنی بات کرکے خود کو محفوظ کر لیتا ہے۔
انٹرویو کرنے والا باصلاحیت اور انٹرویو کے فن میں عبور رکھنے کا حامل ہوگا تو وہ شخصیت چاہے کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتی ہو، اس کی زندگی کے ایسے افکار و واقعات کا کھوج لگانے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو اس کی تقریر یا تحریر میں کسی بھی وجوہات کی بنا پر سامنے نہیں آسکے وہ ان گوشوں کو بے نقاب کرتا ہے یعنی اپنی فنی مہارت سے شخصیت کے دل کی بات کو اس کی زبان پر لے آتا ہے۔
ٹھنڈے دل و دماغ کا مالک ہو، اخلاق سے گری ہوئی گفتگو سے پرہیز کرتا ہو، دلیر اور بے خوف ہو، کسی طاقتور شخصیت سے مرعوب نہ ہوتا ہو، سخت سوالات کرے لیکن شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے کرے۔ غیر جانبدار اور غیر متعصب ہو، اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کو انٹرویو پر اثرانداز نہ کرے، دیانت دار ہو، جو معلومات حاصل ہوں اسے اپنا مفہوم بنا کر پیش نہ کرے، بلکہ انٹرویو دینے والے نے جو بات کی ہے اسے بغیر کمی و بیشی کے قارئین تک پہنچائے تاکہ حقائق مسخ نہ ہوں۔
انٹرویو لینے والے میں تنقیدی شعور کا ہونا بھی ضروری ہے، تنقیدی شعور نہیں ہوگا تو اسے کیسے پتا چلے گا کہ کون سا موضوع وضاحت طلب ہے، اس لیے انٹرویو لینے والے میں تجسس اور تحقیقی مزاج کا ہونا ضروری ہے۔ انٹرویو لینے والے کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ کوئی بھی معاملہ ہو اس کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں، اس معاملے کے باب میں ان گنت نقطہ نظر یا زاویہ نگاہ ہو سکتے ہیں، انٹرویو لینے والے کی ذمے داری ہے ، وہ ذاتی عصبیت کو بالائے طاق رکھ کر مختلف آرا جو بھی سامنے آئیں، اس کے تمام پہلوؤں کو قاری کے سامنے رکھے تاکہ قاری کے سامنے تمام پہلو واضح ہو کر سامنے آ سکیں۔
گفتگو کا آغاز ہلکی پھلکی گفتگو سے کریں تاکہ انٹرویو دینے والا ذہنی طور پر الجھن کا شکار نہ ہو اور گفتگو کا ایک تسلسل قائم ہو جائے۔ خاندانی پس منظر، بچپن کا ادوار، تعلیمی مراحل اس کے بعد عملی زندگی کے آغاز کے حوالے سے سوالات کے بعد اپنی ضرورت کے مطابق نظریاتی اور فکری نوعیت کے سوالات کر سکتے ہیں۔ سوالات میں غیر ضروری تفصیلات جن سے قاری کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، اس سے گریز ضروری ہے۔ سوالات بے ربط نہ ہوں، منطقی انداز میں اس طرح ترتیب دیے جائیں کہ اس میں تاریخ، سماج اور ادب کا عکس نظر آئے۔
اب سوال یہ ہے انٹرویو کے مطالعے سے ایک قاری کو کیا حاصل ہوتا ہے اور اس کا مطالعہ کیوں ضروری ہے۔ انٹرویو کے تحت ایک فرد خاص یا شخصیت کی سوانح حیات اور علمی ادبی یا سیاسی کاوشوں کا خاکہ قاری کے سامنے آ جاتا ہے جس کے توسط سے اس عہد کی ادبی یا سیاسی صورت اور اس میں جاری و ساری ماحول واقعات کا قاری مشاہدہ کر سکتا ہے۔
اس کے تحت اس کے سماجی، سیاسی اور ادبی شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔کسی بھی شخصیت کی جانب سے جو انٹرویو دیا جاتا ہے تو اس شخصیت کے داخلی جذبات کے ساتھ اس کے تاثرات، تجربات، مشاہدات اور احساسات بھی سامنے آتے ہیں۔ اس سے زندگی کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ساتھ متعلقہ شعبے کے مسائل سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
ادیبوں کے انٹرویو سے ادیبوں کی ذات، ماحول، تخلیقی محرکات اور ان کا سفر، ذہنی اور فکری سفرکا ارتقا، ادبی تحرکات اور اس کے ابلاغ کو سمجھنے میں خاطر خواہ مدد ملتی ہے۔ اس لیے انٹرویو کو ادب کی ایک صنف بھی تصور کیا جاتا ہے بہ شرط یہ کہ انٹرویو میں ادبی اسلوب اور اس کی چاشنی موجود ہو۔
انٹرویو کے مطالعے سے بہت زیادہ پڑھے لکھے قاری کے سامنے بھی مختلف شعبہ زندگی کے مختلف شعبہ جات کے نئے نکات اور نئے زاویے سامنے آتے ہیں جس سے قاری پر نئی باتیں واضح ہوتی ہیں، اس سے زندگی کی پیچیدگیوں اور مشکلات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کی روشنی میں انسان اپنی زندگی کا لائحہ عمل مرتب کر کے کامیاب زندگی گزار سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قاری کے سامنے انٹرویو کے لیے ضروری کی اہمیت ضروری ہے زندگی کے کے ساتھ جاتا ہے اور اس کے بعد
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ