نئی گندم کی قیمت 2 ہزار روپے فی من، روٹی پھر بھی مہنگی
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
رانا بلال: ملتان میں گندم سستی ہونےکےباوجود تندور پر روٹی کی قیمت کم نہ ہو سکی, مارکیٹ میں نئی گندم کی قیمت 2 ہزار روپے فی من تک آ گئی۔
100 گرام روٹی کی سرکاری قیمت 10 روپےمقرر جبکہ مارکیٹ میں 15 روپےکی فروخت کی جا رہی ہے۔اسی طرح نان بھی 15 کی بجائے 20 روپےکامل رہاہے۔شہری کہتے ہیں ایک طرف کاشتکار کا استحصال ہو رہا ہےتودوسری جانب سفید پوش طبقہ بھی مہنگائی کےبوجھ تلے دب کر رہ گیا ہے۔حکومتی ہدایات کےباوجود روٹی کی قیمت کم نہیں کی جا سکی۔
لاہور شہر بھر میں ہائی الرٹ، ڈکیتی و چوری کی وارداتوں میں ملوث 14 ملزمان گرفتار
شہریوں کاکہناتھا کہ انتظامیہ کی خاموشی سےعوام مہنگی روٹی خریدنے پرمجبور ہیں۔آٹے کی قیمت میں کمی کے باوجود تندور مالکان روٹی کے نرخ کم کرنےکوتیارنہیں۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے روٹی اور نان کے سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کروانے کا مطالبہ کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کی قیمت
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔