مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے 63 مقامات پر چھاپے، ہزاروں کشمیری گرفتار، درجنوں گھر مسمار
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
سرینگر: پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پر چڑھ دوڑی۔
بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں 63 مقامات پر چھاپے مارے جس میں حریت رہنمائوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور آزادی پسندوں کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقامی لوگوں نے بتایا کہ چھاپوں کے دوران خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا اور متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلگام میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد اس طرح کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار اور درجنوں گھروں کو مسمار کیا گیا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔