کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات، 2 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن اور ملیر سٹی میں فائرنگ کے واقعات میں 2 افراد زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق مومن آباد کے علاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹر 4/A اسلام نگر کے قریب اتوار اور پیر کی درمیانی شب فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔
زخمی ہونے والے شخص کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے شخص کی شناخت 30 سالہ عبداالخالق ولد محمد خان کے نام سے کی گئی۔
فائرنگ کا واقعہ ذاتی رنجش کا شاخسانہ ہے تاہم علاقہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی فائرنگ کے مختلف واقعات میں 3 افراد زخمی
ملیر سٹی تھانے کی حدود ملیر مندر جوہرآباد یاسین سائیکل والی گلی میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب فائرنگ سے ایک شخص شدید زخمی ہوگیا۔
زخمی ہونے والے شخص کو طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا ، ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے شخص کی شناخت 45 سالہ محمد وسیم ولد محمد اسلم کے نام سے کی گئی ، فائرنگ کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زخمی ہونے والے شخص
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔