کشمیریوں کا پہلگام واقعے سے کوئی تعلق نہیں، انہیں سزا مت دے، کشمیری رہنماؤں کی حکومت سے اپیل
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو سزا نہیں دینی چاہیے، وہ پہلگام واقعے کیخلاف باہر آئے ہیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ حملے کے ذمہ داروں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کریں، مگر بےقصور لوگوں کو متاثر ہونے نہ دیں۔
عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ یہ وقت سپورٹ حاصل کرنے کا ہے، ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے لوگ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کریں، کشمیر کے لوگوں نے معصوم جانوں کے ضیاع کیخلاف باہر آکر احتجاج کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشتگردی: کشمیریوں کے گھروں کو دھماکا خیز مواد سے اڑایا جانے لگا
علاوہ ازیں، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد حکومت کو دہشت گردوں اور عام لوگوں میں تمیز کرنی چاہیے، اسے عام لوگوں، خصوصاً ان لوگوں کو متنفر نہیں کرنا چاہیے جو دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں۔
حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ کشمری اجتماعی طور پر پہلگام واقعے کی مذمت کرتے ہیں، اس کے ذمہ داروں کو سزا ہونی چاہیے تاہم بلا امتیاز گرفتاریاں اور لوگوں کے گھروں کو گرانے کی ویڈیوز پریشان کن ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کے متاثرین کو انصاف فراہم کرتے ہوئے عام کشمیریوں کو سزا نہ دے۔
کشمیری رہنماؤں نے پہلگام واقعے کے بعد کشمیری طلبہ پر تشدد اور ان کی ہراسانی کے واقعات پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پہلگام واقعہ حریت رہنما دہشتگردی کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پہلگام واقعہ حریت رہنما دہشتگردی پہلگام واقعے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔