اسلام آباد :— وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر بھارتی انتہا پسندوں کی غنڈہ گردی کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمیشن یا سفارتی عملے کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکومت پر عائد ہوگی۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ سفارت خانے اور سفارتی عملے کی حفاظت بھارتی حکومت کی قانونی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے پہلگام میں کیے گئے فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ نہیں چھپا سکتا۔وفاقی وزیر نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشن پر حملے کو بھارتی انتہا پسند سوچ کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی بھی بھرپور مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارتی عملے کا جذبہ اور جرات قابل تحسین ہے، اور حکومت پاکستان ان کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔امیر مقام نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے سفارتی عملے کے ساتھ ہر ممکن تعاون اور تحفظ کو یقینی بنائے گا، اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں مؤثر ردعمل دیا جائے گا۔

Post Views: 1.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستانی ہائی سفارتی عملے کہا کہ

پڑھیں:

فالس فلیگ آپریشن کی اصطلاح سب سے پہلے سمندری جنگوں میں استعمال ہوئی

کراچی:

بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گردی کے حالیہ واقعے کو پاکستان نے فالس فلیگ آپریشن قرار دیا ہے۔ 

بھارت میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے فالس فلیگ کی اصطلاح پہلی مرتبہ استعمال نہیں کی گئی بلکہ اس سے قبل 2016میں پٹھان کوٹ حملے، 2019 کے پلوامہ حملوں کو اور2024 میں پہلگام میں غیرملکی سیاحوں پر حملوں کو بھی نہ صرف پاکستان بلکہ خود بھارتی سیاستدانوں اور بین الاقوامی حلقوں کی جانب سے بھی فالس فلیگ قرار دیا جاچکا ہے۔

فالس فلیگ ایک ایسی حکمت عملی ہے جس میں کوئی ریاست یا ادارہ ایسا حملہ یا واقعہ خود منظم کرتا ہے لیکن اس کا الزام دشمن یا مخالف قوتوں پر لگا دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں بھارت کی سازش کھل کر سامنے آگئی

یہ اصطلاح سب سے پہلے سمندری جنگوں میں استعمال ہوئی جہاں بحری جہاز دشمن کے جھنڈے تلے حملہ کرتے تھے۔ آج یہ اصطلاح عالمی سیاست، خفیہ کارروائیوں اور ہائبرڈ وارفیئر میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔

فالس فلیگ کی اصطلاح پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی یا سیکیورٹی تنازعات تک ہی محدود نہیں بلکہ ہائی برڈ وار فیئر میں اس کا استعمال ایک موثر پراپیگنڈہ ہتھیار کے طور پر کیا جارہا ہے جس کی مثالیں دیگر خطوں میں بھی ملتی ہیں۔

فالس فلیگ یا غلط معلومات پر مبنی کارروائیوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ پوری دنیا میں عدم استحکام، نفرت اور عدم اعتماد کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: پہلگام حملہ: بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کی شرمناک تاریخ

تاریخی اعتبار سے یہ اصطلاح 17ویں صدی میں بحری قزاقوں کے دھوکا دہی کے ایک حربے سے جڑی ہوئی ہے، جب بحری قزاق اپنی اصل شناخت کو چھپانے کیلیے اپنے جہازوں پر ایسے ملکوں کے جھنڈے لہرایا کرتے تھے، جنہیں سمندروں میں موجود ان کے اہداف یعنی تجارتی بحری جہاز دوست یا بے ضرر سمجھ کر نظر انداز کرتے اور بحری قزاقوں کو اپنے اہداف کے قریب پہنچ کر انہیں نقصان پہنچانا آسان ہوجاتا تھا۔

بھارت کی انتہا پسند حکمراں جماعت فالس فلیگ حربے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے کیونکہ ان حملوں کے بعد ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کو ہمیشہ بڑا فائدہ ملا۔ 

پہلگام میں دہشت گردی کے چند منٹوں بعد ہی تمام ملبہ پاکستان پر ڈال کر کشیدگی پیدا کرنے کا مقصد بھی پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا، بھارتی عوام کی ہمدردی حاصل کرنا  ہے، بالخصوص دہشت گردوں کی جانب سے مذہب کی تصدیق کے بعد گولیاں داغنے سے مودی سرکار کے ہندوتوا کے انتہا پسند نظریے کو مضبوط اور مقبول بنانا ہے، اس فالس فلیگ آپریشن کا مقصد بھارت کی جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے عالمی برداری کی توجہ ہٹانا ہے۔ 

اس کے ساتھ ہی یہ کارروائی پاکستان کے خلاف اقتصادی اور فوجی کارروائیوں کا جواز بھی پیدا کرتی ہے، بھارت نے اس واقعے کو بنیاد بناکر پاکستان کی معاشی اور آبی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔

مزید پڑھیں: روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے امریکا

پہلگام میں حالیہ فالس فلیگ آپریشن  بھارت کی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہے، جس کا مقصد الیکشن سے قبل قوم پرستی کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے مطلوبہ اہداف حاصل کر پاتا ہے اور کیا بھارت کی یہ شاطرانہ حکمت عملی کامیاب ہے؟

بھارتی فالس فلیگ آپریشن کی وجہ سے عالمی سطح پر بھارت کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں اور بھارت کے لیے اعتماد سازی کے عمل کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

بھارتی میڈیا فالس فلیگ آپریشنز کی سہولت کاری کرکے خود بھارت کی ساکھ کو مجروح کررہا ہے، بھارتی میڈیا کا روایتی غیر ذمے دارانہ رویہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے، بھارتی میڈیا ایسے واقعات کے فوراً بعد پاکستان پر الزام آرائی اور بغیر تحقیق خبروں کی اشاعت کے ذریعے فالس فلیگ کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس کے برعکس پاکستانی میڈیا کا کردار ہمیشہ مثبت اور زمہ دارانہ رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا پوسٹ مارٹم
  • لندن: پاکستانی ہائی کمیشن پربھارتی شرپسندوں کا حملہ، ایک شرپسند گرفتار،دیگر کی تلاش جاری
  • پہلگام فالس فلیگ، لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن پر حملے کی بھارتی کوشش
  • بھارتی انتہاء پسندوں نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن پر حملہ کردیا
  • پہلگام فالس فلیگ؛ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن پر حملے کی بھارتی کوشش ناکام
  • فالس فلیگ آپریشن کی اصطلاح سب سے پہلے سمندری جنگوں میں استعمال ہوئی
  • بھارت، پاکستانی ہائی کمیشن کے عملے کو وزارت خارجہ میں داخل ہونے نہیں دیا گیا
  • بھارتی سفارتی عملے کے 13 ارکان کو واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھیج دیا گیا
  • پہلگام فالس فلیگ آپریشن: پاکستانی میڈیا کا بھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب، جھوٹا بیانیہ دفن