نئی دہلی: بھارت نے فرانس کے ساتھ 26 رافیل ایم جنگی طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کر لیا۔
63 ہزارکروڑ بھارتی روپے مالیت کے اس معاہدے میں سنگل اور ٹو سیٹر دونوں اقسام کے طیارے شامل ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق معاہدے کے تحت فرانسیسی کمپنی ڈاسو ایوی ایشن کے تیار کردہ یہ طیارے بھارتی بحریہ کے طیارہ بردار بحری جہازوں سے آپریٹ کیے جائیں گے اور روسی ساختہ مِگ 29 کے طیاروں کی جگہ لیں گے۔
بھارتی وزارت دفاع کے مطابق اس معاہدے میں 22 سنگل سیٹر اور 4 ٹو سیٹر طیاروں سمیت پائلٹس کی تربیت، سیمولیٹرز، متعلقہ آلات، ہتھیار اور کارکردگی پر مبنی لاجسٹک سپورٹ شامل ہے۔
معاہدے کے تحت بھارتی فضائیہ کے بیڑے میں پہلے سے موجود 36 رافیل طیاروں کے لیے بھی اضافی سامان فراہم کیا جائے گا۔
ڈاسو ایوی ایشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارتی بحریہ فرانس کے بعد پہلی فورس ہے جو رافیل میرین جیٹ طیاروں کو استعمال کرے گی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فرانسیسی کمپنی یہ طیارے 2028 سے 2032 کے درمیان بھارت کے حوالے کرے گی۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی