ایمن اور منال خان کے بھائی معاذ خان کی شادی، تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
کراچی:
پاکستان کی معروف اداکارہ جڑواں بہنوں ایمن خان اور منال خان کے بھائی معاذ خان کی شادی کی تقریبات شاندار انداز میں منعقد ہوئیں۔
معاذ خان کی شادی ڈیجیٹل کریئیٹر صبا خان سے ہوئی جن کے ساتھ ان کا نکاح گزشتہ سال ایک نجی تقریب میں ہوا تھا۔
اب شادی کی باقاعدہ تقریبات کا آغاز مایوں سے ہوا جس میں ایمن اور منال نے بھرپور شرکت کی اور روایتی لباسوں میں شرکت کر کے خوب داد سمیٹی۔
بارات اور رخصتی کی تقریب کراچی میں منعقد ہوئی، جہاں دلہن صبا نے سرخ رنگ کا بھاری کام والا روایتی لہنگا پہنا، اور معاذ خان نے سیاہ شیروانی کا انتخاب کیا۔
ایمن اور منال خان نے اس موقع پر سنہری انگرکھا اسٹائل کے دیدہ زیب لباس زیب تن کیے جن پر روایتی دبکا، کورا اور دھاگے کا کام کیا گیا تھا۔
شادی کی یہ تمام تقریبات سوشل میڈیا پر خاصی وائرل ہو چکی ہیں۔ مداحوں نے ایمن اور منال کی تصاویر اور ویڈیوز کو پسند کرتے ہوئے جوڑے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
ایمن اور منال نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز اور پوسٹس کے ذریعے شادی کے حسین لمحات مداحوں کے ساتھ شیئر کیے جنہیں لاکھوں صارفین نے پسند کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایمن اور منال
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔