مودی سرکار کا کشمیری مسلمانوں کے خلاف بھیانک منصوبہ، 40 ہزار انتہا پسند ہندوؤں کو ہتھیار پہنچا دیے
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد مودی سرکار نے کشمیریوں کو کچلنے کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے انتہا پسند ہندوؤں کو ہتھیار پہنچا دیے۔
ذرائع کے مطابق مودی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 40 ہزار سے زیادہ انتہا پسند ہندوؤں کو ہتھیار پہنچا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں پاک فوج نے ایل او سی پر جاسوسی کرنے والا ایک اور بھارتی کواڈ کاپٹر مار گرایا
ذرائع نے بتایا کہ انتہا پسند ہندوؤں پر مشتمل یہ جتھے ’ویلیج ڈیفنس گارڈز‘ کی آڑ میں پہلگام حملے کا بدلہ لینے کے لیے کشمیری مسلمانوں کو نشانہ بنائیں گے۔
ہندو انتہا پسندوں کو دیے گئے ہتھیاروں میں کلاشنکوف اور بھارتی فوج میں استعمال ہونے والی INSAS رائفلیں شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ مقبوضہ وادی میں نام نہاد ویلیج ڈیفنس گارڈز کے 4 ہزار سے زیادہ گروپ ہیں، ہر ’ویلیج ڈیفنس گارڈ‘ گروپ 15 سے 20 انتہا پسند ہندوؤں بمشول ریٹائرڈ بھارتی فوجیوں پر مشتمل ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ انتہا پسند ہندو جتھے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، ہندو انتہا پسندوں کے ان جتھوں کو بھارتی حکومت کی جانب سے تربیت اور تنخواہ بھی دی جاتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ انتہا پسند ہندو جتھے مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں آپریشنل بیس منتخب کرچکے ہیں، ان انتہا پسند ہندو جتھوں کا ہدف مقبوضہ کشمیر کے نوگام، اڑی، پونچھ، راجوڑی اور نوشیرہ کے علاقے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں پہلگام واقعہ: پاکستان کے خلاف مہم جوئی سے انکار پر بھارتی فوج کے جنرل کی چھٹی
انتہا پسند ہندو جتھوں کا بنیادی ہدف مسلمانوں کو شہید کرنا اور لوٹ مار کرنا ہے، بھارتی فوج کا مقصد فیک ان کاؤنٹرز کے ساتھ ساتھ ان نام نہاد ویلیج ڈیفنس گارڈز کی آڑ میں زیادہ سے زیادہ کشمیری مسلمانوں کو شہید کرنا ہے۔ ان نام نہاد ویلیج ڈیفنس گارڈز کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے آبادی کے تناسب کو بھی متاثر کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انتہا پسند ہندو پہلگا فالس فلیگ کشمیری مسلمان مودی سرکار ہتھیار فراہم وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتہا پسند ہندو پہلگا فالس فلیگ مودی سرکار ہتھیار فراہم وی نیوز انتہا پسند ہندوؤں انتہا پسند ہندو مودی سرکار بھارتی فوج
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔