امریکہ کیساتھ کینیڈا کے روایتی تعلقات ختم ہو چکے ہیں، مارک کارنی
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اپنی ایک وکٹری سپیچ میں کینیڈا کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکہ کی خیانت کے دکھ کو برداشت کر لیا لیکن ہمیں کبھی اس سبق کو نہیں بھولنا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ کینیڈا کے نومنتخب وزیراعظم "مارک کارنی" نے کہا کہ امریکہ کا قائم کردہ آزاد عالمی تجارتی نظام ختم ہو گیا جس پر دوسری جنگ عظیم کے بعد کینیڈا انحصار کرتا رہا۔ یہ المیہ ہے تاہم نئی حقیقت بھی یہی ہے۔ ہم نے امریکہ کی خیانت کے دکھ کو برداشت کر لیا لیکن ہمیں کبھی اس سبق کو نہیں بھولنا چاہیے۔ ہمیں اپنا خیال رکھنا چاہیے اور سب سے اہم بات کہ ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے۔ مارک کارنی نے ان خیالات کا اظہار انتخابات جیتنے کے بعد وکٹری سپیچ میں کیا۔ Axios کا کہنا ہے کہ کینیڈا کے نومنتخب وزیر اعظم، امریکہ کے ساتھ اپنے ملک کی نئی سرحدیں بنا رہے ہیں۔ اس حوالے سے مارک کارنی نے کہا کہ اب دونوں ممالک کے درمیان روایتی تعلقات ختم ہو چکے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مارک کارنی کے الفاظ بہت سے کینیڈین کی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ کینیڈینز حالیہ انتخابات کو امریکہ اور "ڈونلڈ ٹرامپ" کے ساتھ اپنے تعلقات کو ریفرنڈم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرامپ نے بارہا اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے کینیڈی مصنوعات پر عائد ٹیرف میں اضافہ بھی کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مارک کارنی امریکہ کی کینیڈا کے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔