ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی تین پیسے سستی ہونے کا امکان ہے، ڈسکوز نے درخواست دے دی جس پر نیپرا میں سماعت ہوئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نیپرا اتھارٹی میں ڈسکوز کی بجلی سستی کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت کیس آفیسر نے بتایا کہ مارچ میں 8 ارب 40 کروڑ 90 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی ہے، ڈسکوز کے مطابق مارچ میں بجلی کی لاگت 9.
سی پی پی اے نے بتایا کہ منفی ایڈجسٹمنٹ سے صارفین کو 25 کروڑ روپے کا ریلیف ملے گا، مارچ میں انرجی مکس میں صرف ایک ہی جگہ پر معمولی تبدیلی ہے، مارچ میں ریفرنس کی بہ نسبت ہائیڈور سے پیداوار 3 فیصد کم رہی۔
این ٹی ڈی سی حکام نے کہا کہ مارچ میں بجلی کی مجموعی پیداوار ریفرنس کے مقابلے 8 فیصد کم ہوئی، پچھلے سال کے مارچ کی بہ نسبت بجلی کی پیداوار میں 4.6 فیصد کمی ریکارڈ ، مارچ میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ 16673 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی۔
این ٹی ڈی سی حکام نے بتایا کہ گزشتہ سال مارچ میں زیادہ سے زیادہ پیداوار 15 ہزار 164 میگاواٹ تھی، مارچ کے دوران بجلی کی کم سے کم سے کم پیداوار 6106 میگاواٹ رہی، پچھلے سال مارچ میں کم سے کم پیداوار 7094 میگاواٹ تھی، نیلم جہلم کی وجہ سے پیداوار میں فرق کا ابھی تک تعین نہیں کیا، سسٹم رکاوٹوں کے باعث 62 کروڑ 20 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔
بعدازاں سماعت مکمل ہوگئی۔ نیپرا نے کہا کہ اتھارٹی نے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو تسلی سے سنا ہے، اتھارٹی ڈیٹا کی مزید جانچ پڑتال کے بعد اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کرے گی۔
نیپرا نے کہا کہ سی پی پی اے جی نے ایف سی اے کی مد میں 3 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست جمع کروائی تھی، سی پی پی اے جی کی جانب سے مسلسل 9 ماہ سے ایف سی اے کی مد میں کمی کی درخواست کی گئی، اس کمی کا اطلاق ڈسکوز کے تمام صارفین ماسوائے لائف لائن، پروٹیکٹڈ صارفین، پری پیڈ صارفین اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر ہوگا اس کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی نہیں ہو گا۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کی مد میں میں بجلی بجلی کی
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔