اس وقت پاکستانی قوم کا بچہ بچہ جنگ کیلئے تیار ہے؛ شرجیل انعام میمن
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
سٹی 42 : شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ دہشت گردوں کے خلاف لڑتا رہا ہے، اس کے باوجود بھارت پاکستان پر الزام لگا رہا ہے شرم کی بات ہے ۔
شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کرتا رہا، پہلگام واقعے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، پاکستان نے اس واقعے کی مذمت کی ہے، پاکستان اس واقعے میں ملوث نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خود ہمیشہ دہشت گردی میں ملوث رہا ہے، 70 ہزار پاکستانی دہشت گردی کے شکار رہے ، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو دہشت گردی کا نشانہ بنی، پاک فوج کے جوان اور سیاسی کارکن دہشت گردی کا نشانہ بنے ، اے پی ایس کا سانحہ ہوا۔
بس سٹاپس پر پنکھوں، الیکٹرک واٹر کولر کی چوری کو روکنے کا نیا حل
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جتنی دہشت گردی پاکستان میں ہوئی اتنی بھارت میں نہیں ہوئی، پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت ملوث رہا ہے، دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ ظلم کیا ہے، کشمیر میں معصوم عورتوں اور بچوں کو مارا گیا، ہزاروں کشمیریوں کو مارا گیا ہے، اس پر بھارت خاموش کیوں ہے، بھارت میں مسلمانوں اور سکھوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے، اس کی مثالیں پوری دنیا میں موجود ہیں، کینیڈا جیسا ملک اس دہشت گردی پر بول رہا۔
پاکستان ائیر فورس کی بروقت کارروائی،بھارتی رافیل طیارے راہ فرار اختیار کر گئے
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے یہ ڈرامہ خود رچایا ہے ، تاکہ پاکستان کے خلاف ماحول بنایا جائے، مودی سرکار اور بھارتی فوج پر جنگی جنون چڑھا ہوا ہے، سات لاکھ فوج موجود تھی کہاں تھی سیکیورٹی، یہ جعلی آپریشن بھارت نے شروع کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی جنگی جنون کا شوق پورا کرے، بھارت کا مقابلہ 25 کروڑ عوام کے ساتھ ہے، پاکستان کی عوام بھارت کا منہ توڑ مقابلہ کرے گا، بھارت نے کچھ کیا تو وہ اس کی خود کشی ہوگی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ شہید بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام دیا، اس وقت پاکستان کی پوری قوم کا بچہ بچہ جنگ کے لیئے تیار ہے۔
بولنا مجھے بھی آتا ہے لیکن بڑوں نے عزت کرنا سکھایا ہے: بابر اعظم
انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے شرم ناک کردار ادا کیا، پاکستان کے میڈیا نے بھارتی میڈیا کو جواب دیا، عالمی برادری دیکھے کہ بھارت نے پاکستانی میڈیا کو بلاک کردیا ، بھارت ڈر اور خوف کے عالم میں ہے، بھارتی آرمی چیف کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں، پاکستان گیدڑ بھبھکیوں سے نہیں ڈرتا۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو بھارت نے معطل کیا ہے، یا تو سندھو میں پانی بہے گا یا بھارت کا خون بہے گا۔
کشیدہ حالات کے پیش نظر پاکستانی فضائی حدود کی کڑی نگرانی ،نئی ہدایت جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن نے کہا انہوں نے کہا کہ بھارت بھارت نے رہا ہے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔