پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش منزل ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی منڈی تک رسائی کے لیے ڈیجیٹائزیشن بہت ضروری ہے، پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش منزل ہے۔
ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ تمام مندوبین کو کانفرنس میں شرکت پر دل کی گہرائی سے خوش آمدید کہتے ہیں، ڈی ایف ڈی آئی فورم پاکستان کے آئی ٹی کے شعبے کے حوالے سے اہم سنگ میل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے ہمارے پانی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو اسے جنگ تصور کریں گے، اسحاق ڈار
انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں ڈیجیٹل معیشت فروغ پا رہی ہے، ترقی کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جدید دور کی ضرورت ہے، عالمی منڈی تک رسائی کے لیے ڈیجیٹائزیشن بہت ضروری ہے، بطور ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے بانی رکن، پاکستان ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ڈیجیٹل پالیسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی پاکستان کی معیشت کو نئی شکل دے رہی ہے، پاکستان میں عالمی معیار کے ڈیجیٹل ماہرین موجود ہیں، ہمارے پاس نوجوان ڈیجیٹل فورس موجود ہے، ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ ڈیجیٹائزیشن کے فروغ کے حوالے سے نمایاں قانون سازی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، پاکستان میں پائیدار اور منافع بخش ترقی کے لیے ماحول سازگار ہے، پاکستان ڈیجیٹل پالیسی ایجنڈا میں ابھرتی معیشتوں کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اپنے حصے کے پانی کا تحفظ کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرےگا، اسحاق ڈار
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فورم کے انعقاد سے مفید نتائج برآمد ہونے کی توقع ہے، پاکستان کے آئی ٹی اور ڈیجیٹل شعبے میں سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں، پاکستان دنیا کے لیے آئی ٹی کے شعبے میں ابھرتی ہوئی منڈی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فورم نے حکومتوں، موجدوں اور سرمایہ کاروں کو ایک ساتھ لا کر سرحدوں سے ماورا شراکت داری کی بنیاد رکھی ہے جو قابلِ وسعت ڈیجیٹل حل فراہم کرے گی، پاکستان 2026 میں ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کی صدارت سنبھالنے کی تیاری کررہا ہے، ہم ڈیجیٹل پالیسی ترتیب دینے، جامع اختراع کو ممکن بنانے، اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور عالمی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسحاق ڈار ڈیجیٹل فورم معیشت نائب وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ڈیجیٹل فورم سرمایہ کاروں اسحاق ڈار ا ئی ٹی نے کہا کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔