چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیرِ صدارت اہم اجلاس، ملازمین کو علاج و معالجہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اہم فیصلے
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیرِ صدارت اہم اجلاس، ملازمین کو علاج و معالجہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اہم فیصلے WhatsAppFacebookTwitter 0 30 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ڈی اے بورڈ ممبران سمیت دیگر سی ڈی اے کے سنئیر افسران اور راولپنڈی اور اسلام آباد کے معروف ہسپتالوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ سی ڈی اے اپنے افسران اور ملازمین کو علاج و معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے اور سی ڈی اے کے ملازمین ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں اور انکی صحت و تندرستی کو یقینی بنانا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے ہسپتال سی ڈی اے ملازمین کو علاج و معالجہ کی نہ صرف بہترین سہولیات فراہم کررہا ہے بلکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے معروف ہسپتالوں کے ساتھ اپنے ملازمین کے کم نرخوں پر شراکت داری کیلئے کوشاں ہے تاکہ سی ڈی اے ملازمین کو جدید طبی آلات، ماہر ڈاکٹرز اور کم اخراجات پر اعلی معیار کی علاج و معالجہ کی سہولیات میسر آسکیں۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف ہسپتالوں تک رسائی ہی نہیں بلکہ ہماری کوشش ہے کہ سی ڈی اے کے ہر فرد کو بہتر سے بہترین علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے نے مختلف ہیلتھ انشورنس پالیسی آرگنائزیشن سے بھی رابطہ کرکے ان سے بھی سی ڈی اے ملازمین کے علاج و معالجہ کے کم نرخوں پر ریٹس منگوائے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہیلتھ انشورنس پالیسیوں میں ملازمین کے اہل خانہ کیلئے خصوصی پیکجز شامل ہیں۔
چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے ملازمین کے لئے طبی اخراجات کو کم سے کم کرنے کے علاوہ علاج و معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بھی ملازم مالی مجبوریوں کی وجہ سے علاج و معالجہ کی بہترین سہولیات سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جلد ہی ایک نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا آغاز کیا جائے گا اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے ملازمین اپنے میڈیکل ریکارڈز اور سبسڈی کی درخواستیں براہ راست ٹریک کرسکیں گے۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ سی ڈی اے اسلام آباد کے تمام ہسپتالوں کے ساتھ مل کر ایک جامع ہیلتھ نیٹ ورک تشکیل دینے کیلئے کوشاں ہے جس کا مقصد صرف علاج نہیں بلکہ بیماریوں سے بچا واور صحت مند زندگی کی تربیت بھی فراہم کرنا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپورا خطہ بھارت کے غیرذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے خطرے میں ہے، نائب وزیراعظم ،ترجمان دفتر خارجہ، ترجمان پاک فوج کی مشترکہ نیوز کانفرنس پورا خطہ بھارت کے غیرذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے خطرے میں ہے، نائب وزیراعظم ،ترجمان دفتر خارجہ، ترجمان پاک فوج کی مشترکہ نیوز... اسحق ڈارسے امریکی ناظم الامورکی ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان سمیت کئی ممالک میں دہشتگردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہے، اسحاق ڈار اوگرا نے مئی کیلئے ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کر دی مودی نے بھارتی فوج کو فری ہینڈ دیدیا لیکن شہباز شریف نے نہیں دیا، بیرسٹر علی ظفر خیبرپختونخوا میں تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی اسکینڈل، ذمہ داران کو نہیں چھوڑوں گا، اسپیکر اسمبلی بابر سواتی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا ملازمین کو علاج و معالجہ کی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔