مستند انٹیلیجنس اطلاعات تھیں کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرے گا، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ بھارت نے بغیر شواہد پاکستان پر الزامات عائد کیے، پہلگام واقعےکا ذمہ دار بھارت خود ہے، بھارت کے پاس کسی قسم کے شواہد موجود نہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ ہمارے پاس مستند انٹیلیجنس اطلاعات تھیں کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرے گا، ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے معلومات عالمی برادری سے شیئر کریں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاک فوج وطن عزیز کا دفاع کرنا جانتی ہے، پاکستان کے عوام پرعزم اور اپنے وطن کے لیے متحد ہیں، پاکستان پرامن ملک ہے اور ہمیشہ پرامن بقائے باہمی کا خواہاں رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی حکومت کا ایک مقصد ہے کہ پاکستان پر الزام لگاؤ، کریڈٹ لو اور الیکشن جیتو۔ اس کے علاوہ بھارت پہلگام واقعے کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے، پاکستان نے پہلگام واقعہ کی منصفانہ اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی، ماضی میں بھی بھارت نے ایسے واقعات کے الزامات بغیر تحقیقات پاکستان پر عائد کیے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ بھارت اصرار تو کرتا ہے کہ حملہ سرحد پار سے تھا لیکن اس کے پاس الزام کا کوئی ثبوت نہیں، کیا بھارت کے پاس کوئی شواہد ہیں کہ پہلگام حملے میں ملوث شدت پسند پاکستان میں مقیم ہیں؟ بھارتی حکومت کسی ایک گروپ کا تعین نہیں کرسکی جو اس واقعے میں ملوث ہو۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو دنیا کو بتانا ہوگا کہ اس واقعے میں کون ملوث ہے، صرف یہ الزام عائد نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے پیچھے پاکستان ہے، پاکستان نے اس واقعے پر منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش بھی کی، پاکستان اپنے دوست ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے، ہم اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ اس ساری صورتحال میں پاکستان نہ تو جارح ہے نہ ہی اشتعال دلانے والا، کشیدگی بڑھانے میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عطا تارڑ نے پاکستان پر نے کہا کہ کہ بھارت
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔