نیویارک (اوصاف نیوز)پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے، امید ہے کہ پاکستان بھارت سے تعاون کرے گا، مقبوضہ کشمیر میں حالیہ پہلگام حملے کے بعد بھارت کی طرف سے پاکستان پر عائد کیے گئے الزامات نے ایک بار پھر خطے کو کشیدگی کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سمیت کئی بین الاقوامی رہنماؤں نے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ممکنہ جنگ کے خطرے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی نائب صدر نے بھارت کو تنبیہ کی ہے کہ وہ نیا عالمی تنازعہ کھڑا نہ کرے۔ جب کہ پاکستان نے کسی بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی نائب صدر نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکا یہ یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ معاملات کو سفارتی طریقے سے سلجھایا جا سکے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے جواب میں کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جو خطے میں تنازعے کا سبب بنے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے، امید ہے کہ پاکستان بھارت سے تعاون کرے گا۔

ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیھ نے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ سے بات کرتے ہوئے بھارت کے ”دفاع کے حق“ کی حمایت کی، جبکہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے کھلے عام پاکستان کو اس حملے کا ”ذمہ دار“ ٹھہرا کر ایک بار پھر اشتعال انگیزی کی انتہا کر دی۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثناء اللہ نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ کا مطلب صرف تباہی ہوگا، نہ کہ فتح یا شکست۔ پاکستان نے بھارت کو حملے کی تحقیقات میں مشترکہ تعاون کی پیشکش کی، مگر مودی سرکار نے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے روایتی الزام تراشی کو ترجیح دی۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاک فوج کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں واضح اعلان کیا گیا کہ بھارت کی جانب سے جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا ”یقینی اور فیصلہ کن“ جواب دیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت ایک بار پھر کسی بحران کو سیاسی اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب بھارت اندرونی سیاسی دباؤ، معاشی سست روی اور انتخابات جیسے حساس معاملات سے دوچار ہے۔ مبصرین کے مطابق مودی سرکار اپنے سیاسی فائدے کے لیے پاکستان کو نشانہ بنا کر عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ادھر بھارت کی جانب سے عالمی مالیاتی اداروں پر پاکستان کے قرضوں کی جانچ کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے، جو خود ایک سفارتی چال کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان کے معاشی مشیر خرم شہزاد کے مطابق ملکی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے اور آئی ایم ایف پروگرام مکمل طور پر ٹریک پر ہے۔

عالمی برادری، بالخصوص امریکا، کو چاہیے کہ وہ بھارت کو غیر ذمہ دارانہ رویے سے باز رکھے تاکہ جنوبی ایشیا کو ایک اور تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے۔ پاکستان نے ایک بار پھر امن اور مذاکرات کی بات کی ہے، مگر بھارت کی اشتعال انگیزی خطے میں تباہی کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
پاکستان نے بھارت کے میڈیا کو بلاک کر کے دشمن کو منہ توڑ جواب دیدیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: امریکی نائب صدر ایک بار پھر پاکستان نے کہ پاکستان بھارت کی نے بھارت کہ بھارت کے مطابق کی جانب

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری