Daily Mumtaz:
2026-07-24@06:05:57 GMT

پاک بھارت کشیدگی: ایشیاء کپ خطرے میں پڑ گیا

اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT

پاک بھارت کشیدگی: ایشیاء کپ خطرے میں پڑ گیا

پے در پے ناکامیوں کے بعد بھارت نے ایک بار پھر کھیل کے میدان کو سیاست سے آلودہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو پیش آنے والے حملے کو جواز بنا کر مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف نئی سفارتی اور اسپورٹس محاذ پر محاذ آرائی شروع کر دی ہے۔

بھارتی اخبار ”ٹائمز آف انڈیا“ کے مطابق، بھارت ایشیا کپ کو ملتوی کرنے یا مکمل طور پر منسوخ کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ ٹورنامنٹ ستمبر میں بنگلہ دیش سیریز کے فوراً بعد کسی غیر جانبدار مقام پر ہونا تھا، لیکن بھارتی حکام نے موجودہ حالات کو جواز بنا کر اسے روکنے کی راہ ہموار کرنا شروع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت ایشیا کپ کا میزبان ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان کو سری لنکا یا متحدہ عرب امارات میں میچز کھیلنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ وہی ”ہائیبرڈ ماڈل“ ہے جسے گزشتہ برس پاکستان کی جانب سے تجویز کیا گیا تھا، لیکن تب بھارت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ اب جب معاملہ پاکستان کے حق میں جا رہا ہے، بھارت اسی ماڈل کا سہارا لینے پر مجبور دکھائی دے رہا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے کھیل کے میدان میں پاکستان کے خلاف انتقامی رویہ اپنایا ہو۔ اس سے قبل بھی مودی حکومت نے کھیلوں کو سفارتی دباؤ کے آلہ کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کی مثال 2023 کا ایشیا کپ اور 2019 ورلڈ کپ میں دیکھنے کو ملی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کا دورہ بھی اب بھارتی منصوبہ بندی میں شامل ہے، جہاں اطلاعات ہیں کہ بھارت بنگلہ دیش میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز سے بھی راہ فرار اختیار کر سکتا ہے۔ اس کی ممکنہ وجہ بنگلہ دیش کے ریٹائرڈ جنرل فضل الرحمٰن کا بیان ہے، جنہوں نے بھارت کے شمال مشرقی علاقوں کے حوالے سے حساس ریمارکس دیے۔

پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کھیل کو ہمیشہ نفرت کی سیاست سے آلودہ کرتا ہے، اور پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر ایک بار پھر یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو کھیل کے میدان سے بھی دیوار سے لگا دیا جائے۔

تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ اور ایشین کرکٹ کونسل کے دیگر ارکان بھارت کے اس دباؤ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایک بار پھر ثابت ہو رہا ہے کہ مودی سرکار کھیل کے عالمی اصولوں کو روند کر اپنی نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے — لیکن سوال یہ ہے کہ کیا باقی دنیا اس تنگ نظری کو تسلیم کرے گی؟

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کہ بھارت کھیل کے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا