Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:23:57 GMT

پاک بھارت کشیدگی: ایشیاء کپ خطرے میں پڑ گیا

اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT

پاک بھارت کشیدگی: ایشیاء کپ خطرے میں پڑ گیا

پے در پے ناکامیوں کے بعد بھارت نے ایک بار پھر کھیل کے میدان کو سیاست سے آلودہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو پیش آنے والے حملے کو جواز بنا کر مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف نئی سفارتی اور اسپورٹس محاذ پر محاذ آرائی شروع کر دی ہے۔

بھارتی اخبار ”ٹائمز آف انڈیا“ کے مطابق، بھارت ایشیا کپ کو ملتوی کرنے یا مکمل طور پر منسوخ کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ ٹورنامنٹ ستمبر میں بنگلہ دیش سیریز کے فوراً بعد کسی غیر جانبدار مقام پر ہونا تھا، لیکن بھارتی حکام نے موجودہ حالات کو جواز بنا کر اسے روکنے کی راہ ہموار کرنا شروع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت ایشیا کپ کا میزبان ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان کو سری لنکا یا متحدہ عرب امارات میں میچز کھیلنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ وہی ”ہائیبرڈ ماڈل“ ہے جسے گزشتہ برس پاکستان کی جانب سے تجویز کیا گیا تھا، لیکن تب بھارت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ اب جب معاملہ پاکستان کے حق میں جا رہا ہے، بھارت اسی ماڈل کا سہارا لینے پر مجبور دکھائی دے رہا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے کھیل کے میدان میں پاکستان کے خلاف انتقامی رویہ اپنایا ہو۔ اس سے قبل بھی مودی حکومت نے کھیلوں کو سفارتی دباؤ کے آلہ کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کی مثال 2023 کا ایشیا کپ اور 2019 ورلڈ کپ میں دیکھنے کو ملی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کا دورہ بھی اب بھارتی منصوبہ بندی میں شامل ہے، جہاں اطلاعات ہیں کہ بھارت بنگلہ دیش میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز سے بھی راہ فرار اختیار کر سکتا ہے۔ اس کی ممکنہ وجہ بنگلہ دیش کے ریٹائرڈ جنرل فضل الرحمٰن کا بیان ہے، جنہوں نے بھارت کے شمال مشرقی علاقوں کے حوالے سے حساس ریمارکس دیے۔

پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کھیل کو ہمیشہ نفرت کی سیاست سے آلودہ کرتا ہے، اور پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر ایک بار پھر یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو کھیل کے میدان سے بھی دیوار سے لگا دیا جائے۔

تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ اور ایشین کرکٹ کونسل کے دیگر ارکان بھارت کے اس دباؤ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایک بار پھر ثابت ہو رہا ہے کہ مودی سرکار کھیل کے عالمی اصولوں کو روند کر اپنی نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے — لیکن سوال یہ ہے کہ کیا باقی دنیا اس تنگ نظری کو تسلیم کرے گی؟

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کہ بھارت کھیل کے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود