پاک بھارت کشیدگی: ایشیاء کپ خطرے میں پڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
پے در پے ناکامیوں کے بعد بھارت نے ایک بار پھر کھیل کے میدان کو سیاست سے آلودہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو پیش آنے والے حملے کو جواز بنا کر مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف نئی سفارتی اور اسپورٹس محاذ پر محاذ آرائی شروع کر دی ہے۔
بھارتی اخبار ”ٹائمز آف انڈیا“ کے مطابق، بھارت ایشیا کپ کو ملتوی کرنے یا مکمل طور پر منسوخ کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ ٹورنامنٹ ستمبر میں بنگلہ دیش سیریز کے فوراً بعد کسی غیر جانبدار مقام پر ہونا تھا، لیکن بھارتی حکام نے موجودہ حالات کو جواز بنا کر اسے روکنے کی راہ ہموار کرنا شروع کر دی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت ایشیا کپ کا میزبان ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان کو سری لنکا یا متحدہ عرب امارات میں میچز کھیلنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ وہی ”ہائیبرڈ ماڈل“ ہے جسے گزشتہ برس پاکستان کی جانب سے تجویز کیا گیا تھا، لیکن تب بھارت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ اب جب معاملہ پاکستان کے حق میں جا رہا ہے، بھارت اسی ماڈل کا سہارا لینے پر مجبور دکھائی دے رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے کھیل کے میدان میں پاکستان کے خلاف انتقامی رویہ اپنایا ہو۔ اس سے قبل بھی مودی حکومت نے کھیلوں کو سفارتی دباؤ کے آلہ کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کی مثال 2023 کا ایشیا کپ اور 2019 ورلڈ کپ میں دیکھنے کو ملی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کا دورہ بھی اب بھارتی منصوبہ بندی میں شامل ہے، جہاں اطلاعات ہیں کہ بھارت بنگلہ دیش میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز سے بھی راہ فرار اختیار کر سکتا ہے۔ اس کی ممکنہ وجہ بنگلہ دیش کے ریٹائرڈ جنرل فضل الرحمٰن کا بیان ہے، جنہوں نے بھارت کے شمال مشرقی علاقوں کے حوالے سے حساس ریمارکس دیے۔
پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کھیل کو ہمیشہ نفرت کی سیاست سے آلودہ کرتا ہے، اور پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر ایک بار پھر یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو کھیل کے میدان سے بھی دیوار سے لگا دیا جائے۔
تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ اور ایشین کرکٹ کونسل کے دیگر ارکان بھارت کے اس دباؤ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایک بار پھر ثابت ہو رہا ہے کہ مودی سرکار کھیل کے عالمی اصولوں کو روند کر اپنی نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے — لیکن سوال یہ ہے کہ کیا باقی دنیا اس تنگ نظری کو تسلیم کرے گی؟
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کہ بھارت کھیل کے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔