بھارت: گوا میں مندر میں بھگڈر، 6 افراد کچل کر ہلاک، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
بھارت کی ریاست گوا میں مندر میں بھگڈر مچنے کے بعد 6 افراد کچل کر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہزاروں افراد آگ پر چلنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
وزیر اعلیٰ گوا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ شیرگاؤ گاؤں کے لیرائی دیوی مندر میں بھگدڑ کے المناک واقعے پر بہت افسردہ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اسپتال لانے سے پہلے ہی 6 لوگوں کی موت ہو گئی۔
انہوں نے اسپتال کا دورہ کیا اور کہا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
گوا کے وزیر صحت نے کہا کہ تقریباً 80 لوگ زخمی ہوئے ہیں، 5 کی حالت نازک ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔
لیرائی زترا گوا میں ایک اہم ہندو تہوار ہے اور اسے آگ پر چل کر منایا جاتا ہے۔
بھارت میں مذہبی تہواروں کے دوران بھگدڑ عام ہے، رواں سال کے شروع میں شہر پریاگ راج میں ہندوؤں کے بڑے تہوار کمبھ میلے میں کچلنے سے کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی
گلگت:گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں خواتین ووٹرز کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں متعدد حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں معمولی فرق انتخابی نتائج پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 480 ہے، جبکہ کم از کم پانچ حلقوں میں خواتین ووٹرز جیت اور ہار کا فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
دیامر-1 سب سے منفرد حلقہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ اس حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 269 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 257 ہے، یعنی دونوں کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا فرق موجود ہے۔
مزید پڑھیںگلگت بلتستان عام انتخابات؛ پنجاب پولیس کے 5ہزار اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے
گلگت بلتستان انتخابات، کیا نواز شریف فعال سیاست میں واپس آ رہے ہیں؟
دوسری جانب گلگت-2 میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان سب سے زیادہ فرق ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں مرد ووٹرز کی تعداد خواتین کے مقابلے میں 3 ہزار 829 زیادہ ہے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 26 ہزار 10 ہے۔
انتخابی ماہرین کے مطابق گلگت-2، ہنزہ، غذر-2، گلگت-3 اور اسکردو-2 ایسے حلقے ہیں جہاں خواتین ووٹرز نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہیں۔ ہنزہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد 25 ہزار 588، غذر-2 میں 24 ہزار 945، گلگت-3 میں 24 ہزار 810 اور اسکردو-2 میں 24 ہزار 346 ہے۔
ادھر انتخابات میں خواتین کی سیاسی شرکت بھی نمایاں ہے اور 8 خواتین امیدوار مختلف حلقوں سے قسمت آزما رہی ہیں، جس سے انتخابی عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی عکاسی ہوتی ہے۔