Express News:
2026-07-24@02:22:47 GMT

تربیت، تعلیم کو نکھارتی ہے

اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT

علم اور شعورکا مجموعہ ’’ تعلیم‘‘ کہلاتا ہے، ہر انسان کے لیے تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے،کوئی فرد اس وقت تک دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکتا جب تک وہ تعلیم یافتہ نہ ہو۔

ہم سب الحمدللہ مسلمان ہیں اور ہمارے مذہبِ اسلام میں تعلیم کی بہت اہمیت ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی مقدس کتاب ’’ قرآن مجید‘‘ کو اس کائنات میں نازل فرمانے کا آغاز لفظ اقراء سے کیا۔

اقراء کے لغوی معنی ہیں ’’پڑھیے‘‘۔ تعلیم کی فضیلت سے متعلق بیشمار احادیثِ مبارکہ بھی موجود ہیں، حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا ’’جو شخص حصولِ علم کے لیے نکلا وہ اس وقت تک اللہ کی راہ میں ہے جب تک کہ واپس نہیں لوٹ آتا۔‘‘

اخلاق و تہذیب سکھانے کے عمل کو ’’ تربیت‘‘ کہا جاتا ہے، تعلیم و تربیت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور ان دونوں کا خوبصورت امتزاج ہی انسان کو معاشرے میں عزت دلاتا ساتھ چار لوگوں کے درمیان بیٹھنے کے قابل بناتا ہے۔

دورِ حاضر میں دنیا جس پھرتی سے آگے کی جانب رواں دواں ہے اُس سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے یہاں تربیت کا فقدان پیدا ہو رہا ہے اور بِنا تربیت تعلیم بالکل ویسی ہے جیسے پہیوں کے بغیرگاڑی۔ زمانہ حال جس میں آج، آپ اور ہم زندگی گزار رہے ہیں اُسے ’’ماڈرن ایج‘‘ کہا جاتا ہے اور اس ماڈرن ایج میں جنم لینے والے بچوں کو ’’جنریشن زی۔‘‘

اس نئی نسل سے تعلق رکھنے والے تقریباً تمام بچے ذہنی اعتبار سے غیر معمولی ہیں اور اُن کی مثالی ذہانت میں بڑا دخل جدید ٹیکنالوجی کا ہے مگر افسوس تربیت کی کمی سب میں کم و بیش موجود ہے۔

ماڈرن ایج کے تقاضے ماضی سے یکسر مختلف ہیں، یہاں محض پڑھے لکھے ہونا کامیابی کی نشانی سمجھا جاتا ہے، چاہے اُن تعلیم یافتہ افراد کی تربیت مثبت طریقے سے ہوئی ہو یا نہیں۔ آج کل تعلیم علم و شعور کے حصول کے لیے نہیں کی جارہی ہے بلکہ اس کے پیچھے پیسہ کمانا اور خوب کمانا کی سوچ کار فرما ہے۔

اس بدلتے دور میں ہر اچھی چیزکی ہیئت تبدیل ہو رہی ہے پھر وہ طرزِ زندگی، خاندانی نظام یا انسان کے سوچنے کا انداز ہی کیوں نہ ہو۔ جوکام فائدہ پہنچانے کی اہلیت رکھتا ہو، بس اُسے اپنایا جائے، باقی غیر ضروری اور نفع نہ دینے والے کاموں سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا طرزِ عمل نئے زمانے کے تقریباً ہر دوسرے بندے نے اپنایا ہوا ہے۔ لالچ، خود غرضی، دھوکہ اور ان سے منسلک دوسرے منفی احساسات تربیت کی کمی کے باعث کسی بھی فرد کی شخصیت کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ابتدا میں مشرقی معاشروں میں تربیت کی کمی دیکھنے کو ملنا حیران کُن ہونے کے علاوہ ناقابلِ یقین تھا، ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتی اس پریشانی کا تجزیہ کرنے کا موقع میسر آیا تو کئی عوامل کا دخل اس میں موجود پایا گیا۔ اول جس سب سے بڑی وجہ سے سامنا ہوا وہ مشترک خاندانی نظام کا ہمارے معاشرے میں تیزی سے کم ہوتا رجحان تھا۔

مشترک خاندانی نظام کے نقصانات اپنی جگہ مگر اس کے فائدے بے حساب ہیں، خاندان کے بزرگوں کی شفقت اور علمیت کے سائے تلے پروان چڑھنا اپنے آپ میں تربیت کی بہترین درسگاہ مانی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک چھت کے نیچے خاندان کے افراد کا مل جُل کر رہنا جہاں ہر کوئی مختلف سوچ و طبیعت کا مالک ہو انفرادی طور پر آپ کے اندر تحمل، برداشت اور جذبہ اخوت اُجاگرکرتا ہے جوکہ تربیت کے اہم جُز ہیں۔

 دوسرے نمبر پر تربیت کے انحطاط کی جو وجہ سامنے آئی وہ اکثر والدین کی اس جانب عدم توجہ ہے یعنی مجموعی طور پر ماڈرن ایج کے ماں، باپ اپنے بچوں کو تعلیم تو معیاری دلوانے میں یقین رکھتے ہیں لیکن انگریزی میں گفتگو کرنے والے اُن کے بچے تمیزدار، تہذیبِ یافتہ اور بااخلاق کہلانے کے لائق ہیں یا نہیں، اس کی اُنھیں خاص پرواہ نہیں ہے۔

یہاں بات ساری ترجیحات کی ہے، جب تک والدین اپنی اولاد کو صحیح اور غلط کے فرق سے متعارف نہیں کروائیں گے، زندگی بسر کرنے کا ڈھنگ نہیں سکھائیں گے وہ ان سب سے ناآشنا تربیت کی لاٹھی کے بغیر اندھوں کی مانند غلط راہوں پر برے تجربات سے سر ٹکراتی پھرے گی۔ مغرب سے مرغوب مغربیت کی جیتی جاگتی تصویر بنے والدین کو آج نہیں توکل ضرور احساس ہوگا کہ تربیت بِنا تعلیم فائدہ کم نقصان زیادہ پہنچاتی ہے۔

اس معاملے کو مزید خراب کرنے میں تیسرا جس عمل کا ہاتھ ہے وہ جنریشن گیپ ہے جہاں پرانی نسل اور نئی نسل کے لوگ ایک دوسرے کو بالکل سمجھ نہیں پارہے ہیں اور وہ بیچارے سمجھیں بھی تو کس طرح جب زبان اور مختلف خیالات کی باڑ اُن کے بیچ میں حائل ہے۔

ماڈرن ایج کے والدین کی کثیر تعداد اپنے بچوں کو عام بول چال کے لیے اُن کی قومی و مادری زبان سکھانے میں عار اور انگریزی زبان کا استعمال کروانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ جن معاشروں میں خاندان کے بڑے بوڑھے وہاں کے بچوں اور نوجوان نسل کی زبان سے ناواقفیت رکھتے ہوں تو وہ اُن کی تربیت میں اپنا مثبت کردار ادا کریں بھی توکیسے؟ اس کے بعد اُن کے درمیان کئی بیتی بہاروں کا فاصلہ بھی موجود ہے جس نے ماحول، اندازِ بیان، اظہارِ رائے اور سوچ سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے جس کو سمجھنا ہر عمر کے لوگوں کے لیے مشکل ہے۔

چوتھے درجے پر اپنے طلبا کی تربیت میں تعلیمی اداروں کی مایوس کُن کارکردگی معاشرے میں اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہے، اسکولوں، مدرسوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں محض تعلیم پر زور دیا جا رہا ہے جوکہ قابلِ تعریف بات ہے مگر اس کے ساتھ با تربیت ہونا بھی تو اہم ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہر زور اخبار اور خبرناموں میں طالبِ علموں کے جرائم میں ملوث ہونے کی ایک نہ ایک خبر نظروں سے ضرورگزرتی ہے۔ ناخواندہ افراد کے پاس بد لحاظی کا مارجن موجود ہوتا ہے مگر خواندہ انسان اگر بداخلاقی کا مظاہرہ کرے تو یہ ہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔

عمومی طور پر پڑھائی، لکھائی ہماری نوجوان نسل کو انسان بنانے میں قاصر معلوم ہو رہی ہے، تعلیمی اداروں کی حدود سے باہر وہ اس طرح ہنگامہ برپا کرتے آرہے ہوتے ہیں جیسے اُنھیں لمبی قید سے رہائی نصیب ہوئی ہو۔

درج بالا چاروں عوامل کے باعث دیسی معاشروں میں تربیت کی کمی کے حوالے سے کافی مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور معاملہ اس حد تک بگاڑ کا شکار ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی اس سے شدید متاثر ہیں۔

ہماری گفتار سے اب تہذیب و تمدن کی جھلک شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے، شہد میں گھلے الفاظ کی جگہ ناشائستہ اورکھڑی زبان نے لے لی ہے۔ ہمارے اطوار بھی اب بے ڈھنگے ہوچکے ہیں جس کا ہمیں ذرا احساس نہیں ہے، اس کی چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ مصافحہ ہمیشہ اپنے ہم عمر لوگوں اور دوستوں سے کیا جاتا ہے جب کہ بڑے، بزرگوں سے ہاتھ ملانا بداخلاقی کے زمرے میں آتا ہے۔

ہمارے معاشرے کا ہر بندہ انجانے میں یہ غلطی صبح، شام خود کو باتمیز کہلانے کے چکر میں کر رہا ہے۔ ایسی بیشمار بداخلاقیاں ہمارے معاشرے میں آہستہ آہستہ سرایت کرتی جا رہی ہیں، جن کی جلد روک تھام ضرروی ہے،کہیں ہماری کاہلی ہمیں ناقابلِ تلافی نقصان نہ پہنچا دے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تربیت کی کمی ماڈرن ایج ہیں اور جاتا ہے کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف