بھارت میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس نے جموں کے رہائشی جوان فوجی افسر کو پاکستانی خاتون سے شادی کرنے اور مبینہ طور پر شادی چھپانے پر نوکری سے برطرف کر دیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں تعینات خصوصی پولیس فورس کے اہلکار منیر احمد کو پاکستانی خاتون منال خان سے شادی چھپانے کے الزام میں ملازمت سے فارغ کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی افسر منیر احمد نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سی آر پی ایف ہیڈکوارٹرز سے باقاعدہ اجازت حاصل کی تھی اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے تھے۔

انہوں نے بھارتی خبر رساں ایجنسی کو بتایاکہ مجھے ابتدائی طور پر میڈیا رپورٹس کے ذریعے اپنی برطرفی کا پتہ چلا۔ مجھے فوری طور پر سی آر پی ایف کی جانب سے برطرفی کے بارے میں مطلع کرنے والا ایک خط موصول ہوا جس سے مجھے اور میرے خاندان کو صدمہ پہنچا کیونکہ میں نے ہیڈ کوارٹر سے ایک پاکستانی خاتون سے اپنی شادی کی اجازت طلب کی تھی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستانی خاتون مینال خان، جن کا ویزا 22 مارچ کو ختم ہوا، کی ملک بدری پر فی الحال ہائی کورٹ نے روک لگا دی ہے، کیونکہ جوڑے نے طویل مدتی ویزے کی درخواست دے رکھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق منیر کا کہنا ہے کہ انہیں میڈیا سے برطرفی کا پتہ چلا اور وہ جلد ہی قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

فورس کا دعویٰ ہے کہ احمد نے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے، جبکہ احمد کا کہنا ہے کہ میں نے ہر قدم قانون کے مطابق اٹھایا، انصاف کے لیے عدالت جاؤں گا۔

جموں کے گھروٹہ علاقے کے رہنے والے فوجی افسر منیر احمد نے اپریل 2017 میں سی آر پی ایف میں شمولیت اختیار کی، پھر مئی 2024 میں پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی منال خان سے آن لائن تعلقات استوار کرنے کے بعد شادی کی۔ دونوں کی شادی 24 مئی 2024 کو ایک ویڈیو کال نکاح کی تقریب کے ذریعے ہوئی تھی۔ احمد کے مطابق شادی یونین سی آر پی ایف ہیڈکوارٹر سے باضابطہ اجازت حاصل کرنے کے تقریباً ایک ماہ بعد ہوئی۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستانی خاتون سی آر پی ایف کے مطابق

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان