Islam Times:
2026-07-24@07:54:20 GMT

حالات حاضرہ؛ طوفان الاقصی یمن اور امریکی شکست

اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جسمیں تازہ ترین مسائل کے بارے نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کیجاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: حالات حاضرہ پہ علامہ ڈاکٹر میثم ہمدانی سے گفتگو
مہمان تجزیہ نگار: علامہ ڈاکٹر میثم ہمدانی
میزبان و پیشکش: سید انجم رضا
تاریخ: 4 مئی 2025

موضو عات گفتگو:
 
طوفان الاقصی کے بعد ایک سال اور سات ماہ کے دورانیہ پر ایک نظر؟
یمن مقاومت کر رہا ہے، کیا امریکہ غیر اعلانیہ شکست قبول کر چکا ہے؟
سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے ایران کا دورہ کیا ، رہبر انقلاب کوکس کا پیغام دیا اور کیا پیغام دیا تھا؟
پاک بھارت تنازعے میں  ایران کی مصالحت کی پیشکش
کیا اسرائیل ایران کے ایٹمی اثاثوں پر حملہ کرے گا؟
ایران امریکہ مذاکرات، کیا نتیجہ نکلے گا؟
خلاصہ گفتگو و اہم نقاط:
طوفان الاقصی کے بعد مادی نقصانات کے باوجود معنوی طور پہ ملت   فاتح ہوئی ہے
ماضی کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کے وجود کو خطرہ نہیں ہوا
چوہتر برس میں پہلی بار اسرائیل کا وجود خطرے میں آچکا ہے
مقاومت و مزاحمت سلامت ہے جب تک اسرائیل کا خاتمہ ہوتا
مقاومت و مزاحمت کی حکمتِ عملی تبدیل ہوسکتی ہے مگر  جاری رہے گی
اسرائیل اور صیہونی اپنی نابودی کے خوف کا شکار ہوچکے ہیں
طوفان الاقصیٰ نے تاریخ کا رُخ موڑدیا ہے
سینچری ڈیل کہیں غرق ہوچکی ہے،
یورپ سمیت دنیا فلسطینی ریاست کو ماننے کے لئے تیار ہوچکی ہے
افغانستان کے بعد امریکہ یمن میں بھی شکست سے دوچار  ہوچکا ہے
یمن میں امریکہ کو آپریشن بہت مہنگے پڑرہے ہیں
متحدہ عرب امارات اور عرب ممالک نے یمن کے خلاف آپریشن میں امریکی حمایت نہیں کی
امریکہ کو  یمن  میں غیر  اعلانیہ شکست ہوچکی ہے
عالمی رائے عامہ بھی یمن کی حمایت میں سازگار ہوتی جارہی ہے
 موجودہ حالات میں سعودی وزیر خارجہ کا دورہ ایران بہت اہمیت کا حامل ہے
یہ ایک اعلیٰ  سطحی وفد تھا جس کی سربارہی ولی عہد کررہے تھے
رہبرِ معظم سے ملاقات بھی خصوصی اہمیت اور توجہ کا مرکز رہی
لگتا یہ ہےسعودی وفد کا دور ہ ایران سے قُربت  بڑھانے کی سوچ کا اظہار لگتا ہے
اس دورہ کے بعد فلسطین کے حوالہ سے سعودی موقف بہت  بہتر ہوا ہے
پاک بھارت تنازعے میں  ایران کی مصالحت کی پیشکش کا مثبت قدم ہے
اس وقت بھارتی میڈیا  ایران کے  خلاف بھی  بہت زہر اُگل رہا ہے
پاکستانی ذمہ داران  کاایران کے بارے میں اپنے موقف کو مزید دوستانہ کرنے کی ضرورت ہے
ایرانی پاک بھارت تنازعے کو امریکی سازش کے طور پہ لے رہے ہیں
پاکستانی ذمہ داران کو امریکہ کے منافقانہ کردار کو سمجھنے کی ضرورت ہے
اسرائیل کا ایران کے ایٹمی اثاثوں کا نقصان پہچانانا ممکن ہے
ایران کے متعدد ایٹمی مراکز ہیں، اس لئے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا نا ممکن ہے
ایران امریکہ مذاکرات ایک روٹین کے مذاکرات ہیں
امریکہ کے لئے ناممکن ہے کہ ایران کو مذاکرات کے ذریعے ڈکٹیٹ کرسکے
ایران امریکہ مذاکرات  میں کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوگا
ٹرمپ انتظامیہ اس مذاکرات کے ذریعے اپنے بیرونی مسائل کو دبانا چاہتا ہے
 
 
 
 
 
 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: طوفان الاقصی ایران کے کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی