Express News:
2026-06-03@01:38:53 GMT

ایک محنت کش صحافی کی یادیں

اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT

جبار مرزا ہماری صحافت کے محنت کش ہیں۔ قلم کبھی ہاتھ سے نہیں رکھتے۔ ادھر ہم ابھی ان کی ایک کتاب سے نبرد آزما ہوتے نہیں کہ دوسری آ جاتی ہے۔ ان کی کتابوں کی فہرست بنانا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ گھٹنے توڑ کر بیٹھنے والا کوئی محنتی طالب علم ممکن ہے کہ یہ کارنامہ کر پائے۔ وہ کثیر التصانیف ایسے ہیں کہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ہی ان کے مقابلے میں خم ٹھونک کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ البتہ ان میں اور مرزا صاحب میں ایک فرق ہے۔

مرزا صاحب ساری محنت خود کرتے ہیں جب کہ ہارون صاحب اپنے ساتھ دوسروں کو بھی محنت پر آمادہ کرتے ہیں۔ خیر، یہ اپنے اپنے مزاج اور اسلوب کی بات ہے۔ ہمارے دوست ہارون الرشید تبسم درجنوں لوگوں کو متحرک کر کے سیکڑوں کتابوں کے مصنف بنے ہیں تو مرزا صاحب نے یہ سارا بوجھ خود ہی اٹھایا ہے۔ جہاں تک مرزا اور مغل ہونے کا تعلق ہے، ہمارے ان دونوں دوستوں کے اجداد مشترک ہیں البتہ جبار مرزا صاحب نے اپنے جد اورنگ زیب عالمگیر جیسا مزاج پایا ہے۔ اس بزرگ کی گھڑ سواری کرتے کرتے کمر دوہری ہو گئی لیکن جنگوں کی قیادت ہمیشہ خود کی۔ کسی دوسرے حتی کہ اولاد پر بھی اعتماد نہیں کیا۔ ہمارے مزرا صاحب تو پھر مصنف ہیں، مصنف اپنی تصنیف میں شرک تو کبھی برداشت کرتا ہی نہیں ہے۔

جبار مرزا صاحب سے ذاتی تعلق تو بہت بعد میں بنا، درجنوں کتابوں کے مصنف وہ پہلے ہی بن چکے تھے۔ ایوان صدر میں میرے قیام کے شاید آخری دنوں کی بات یے، ان کی دو کتابیں موصول ہوئیں، ان میں ایک ' قائد اعظم اور افواج پاکستان ' تھی، حکم یہ تھا کہ اسے صدر مملکت یعنی صدر ممنون حسین کو پیش کر دیا جائے۔

حکم کی تعمیل ہو گئی۔ صدر صاحب نے ورق گردانی کی اور پسند فرمایا۔ تب تک مرزا صاحب اس کم ترین کو مطالعے کے قابل شاید نہیں سمجھتے ہوں گے، اس لیے وہ اس کتاب کے افادے سے محروم رہا۔ اس بڑے گھر سے فراغت کے بعد انھوں نے مجھے اس قابل سمجھا اور اپنی محبت کی سرگزشت عنایت کی۔ یہ کتاب یعنی ' جو ٹوٹ کے بکھرا نہیں' کے عنوان سے شائع ہو کر مقبولیت کے ریکارڈ توڑ چکی ہے۔

خیر، ان کی محبت کا ایک تذکرہ بہ عنوان ' پہل اس نے کی تھی' بھی مقبولیت حاصل کر چکا ہے لیکن ان دو تذکروں میں فرق کیا ہے، اس کا اندازہ یوں نہیں ہے کہ اس کی اشاعت ان دنوں کی بات ہے جب ان سطور کے لکھنے والے کو وہ سرکاری اہل کار سمجھتے تھے، کتاب خوانی کے مرتبے پر فائز نہیں سمجھتے تھے۔ 2019 کے آس پاس ان کی ایک کتاب ' کشمیر کو بچا لو' کے عنوان سے شائع ہوئی۔

ہمارے صحافیوں میں ایک خرابی ہے، صحافت کرتے کرتے خوش قسمتی سے وہ مصنف بن جائیں تو لٹریری ٹچ انھیں بگاڑ دیتا ہے اور ان کی کتابوں کے ناموں سے سنجیدگی بلکہ خشکی ٹپکنے لگتی ہے لیکن مرزا صاحب کے صحافتی پس منظر نے ان کے عوامی بلکہ عام فہم انداز پر کبھی آنچ نہیں آنے دی جو کشمیر والی کتاب کے نام سے واضح ہے۔یہی صحافت کی خوبی اور اس کا طرہ امتیاز ہے۔ کشمیر پر ہمارا مقدمہ تاریخی اور دستاویزی ثبوت بھی رکھتا ہے اور یہ ثبوت بہت اہمیت رکھتے ہیں لیکن تعلق خاطر کے وہ ثبوت جن کا تعلق لوگوں یعنی رشتے ناتوں سے ہو، اس کی اہمیت سب سے بڑھ کر مسلم ہے۔

اس کتاب میں مرزا صاحب نے ایسے ہی ثبوتوں کے ڈھیر لگا دیے ہیں جیسے راول پنڈی صدر میں جو مشہور اور تاریخی تانگہ اسٹینڈ تھا، وہاں سے ٹانگے چلا کرتے تھے جو ہمارے کشمیر کے اس خطے تک جاتے جس کی پہچان آج مقبوضہ کشمیر کے نام سے کی جاتی ہے۔ تعلق خاطر کے ایسے ثبوت ہی ہوتے ہیں جو قانونی اور دستاویزی ثبوتوں کو بھاری بھرکم بناتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ دعویٰ جو سیاسی بنیاد پر کیا جا رہا یے، وہ ناقابل تردید انسانی، تہذیبی اور تجارتی رشتوں میں گندھا ہوا ہے۔ اس کتاب میں مرزا صاحب نے کشمیر کے ساتھ پاکستان کے رشتوں کی ایسی بنیاد کے بارے میں بتایا ہے جو دیگر ہر ثبوت سے بڑھ کر ہے۔

کچھ روز ہوتے ہیں، سید ضمیر جعفری کے بارے میں ان کی کتاب ' مزاح نگاروں کا کمانڈر انچیف ' منصہ شہود پر آئی تھی۔ اس کتاب میں جعفری صاحب کے مزاج اور زندگی کی ساری جھلکیاں انھوں نے سپرد قلم کر دی ہیں جنھیں پڑھتے صاف دکھائی دیتا تھا کہ یہ جعفری صاحب آ رہے، وہ جا رہے ہیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ انھوں نے سید ضمیر جعفری کے بارے میں دلچسپی رکھنے والے محقق کو معلومات کے بنیادی ذریعے تک پہنچا دیا ہے۔ اب یہ اس کا فہم اور قابلیت ہے جس سے کام لے کر وہ ہماری مزاحیہ شاعری کے بادشاہ کا تاج محل تعمیر کر سکتا ہے۔

کچھ ایسا معاملہ ہی ان کی تازہ کتاب کا ہے جو ' صحافتی یادیں' کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ یادیں قلم بند کرنے کے لیے حافظے کی سلامتی ضروری ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب کا حافظہ کمال کا ہے۔ چند برس ہوتے ہیں، ہماری بھابی صاحبہ یعنی رانی کا انتقال ہو گیا جو ان کی نصف بہتر اور محبت تھیں۔ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی ان کے دن کا آغاز رانی کی قبر پر فاتحہ خوانی سے ہوتا ہے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے تو وہ جو ٹوٹ کے بکھرا نہیں، خود پر قابو پا کر آگاہ کرتا ہے کہ رانی کو بچھڑے ہوئے اتنے سال، اتنے ماہ، اتنے دن اور اتنے گھنٹے ہو گئے ہیں۔ رانی سے بچھڑنے کا ایک ایک لمحہ ان کے لیے یوں گزرا ہے کہ اس کا حساب کتاب ان کی نوک زباں پر آ گیا ہے۔

مرزا صاحب راول پنڈی اور اسلام آباد کی صحافت کے بزرگوں میں سے ہیں۔ ان کے مشاہدے سے ایسا بہت کچھ گزرا ہے، آج کے صحافی جس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ افراد، ادارے اور سماج۔ یہ سب یادیں ایسی ہیں جن کے تال میل سے اس خطے اور یہاں کے لوگوں کے مزاج، افتاد طبع اور اہم واقعات کی تفصیلات سے نہ صرف یہ کہ تاریخ بلکہ ہمہ قسم کے تذکرے مرتب کیے جا سکتے ہیں۔

غرض مرزا صاحب نے اس کتاب میں ایسے ایسے واقعات قلم بند کر دیے ہیں جو پڑھنے والے کو حیران کر دیتے ہیں۔ یہ کیسی حیرت کی بات ہے کہ یہاں کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے تھے، باہمی لین دین اور خرید و فروخت کے معاملات میں ان کی خواہشات نا آسودہ رہ جاتیں تو وہ درمیان میں ڈاکوؤں کو لے آتے۔ ایسے ہی کسی معاملے میں ایک بار ایسا ہوا کہ ایوب خان سے دشمنی کی شہرت رکھنے والے ڈاکو خانو ڈھرنالیہ(محمد خان) کے بیٹے نے خود مرزا صاحب کا دروازہ کھٹکھٹا دیا پھر اس شخص یعنی اپنے مد مقابل اور ڈاکو کے بیٹے کے ساتھ مرزا صاحب نے جو سلوک کیا، وہ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

ہاتھ سے کبھی قلم نہ رکھنے والے مرزا صاحب نے تو اتنا بہت کچھ لکھ کر اپنے حصے کا کام کر دیا ہے اور علامہ عبد الستار عاصم نے اپنی روایت کے مطابق بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسے شائع کر دیا ہے۔ اب جو اسے پڑھنا، سمجھنا، لطف لینا اور عبرت پکڑنا چاہتا ہے، اس کے لیے صلائے عام ہے۔ باقی اس کی قسمت اور مرضی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اس کتاب میں میں ایک کی بات ہے اور

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا